السلام علیکم:میرے پاس ایک پالتو مادہ بلی ہے، وہ کچھ کمزور ہے اور اسے شدید ہیٹ آتی ہے، ہر جگہ پیشاب کرتی ہے اور نر آوارہ بلیاں اس پر حملہ کرتی ہیں،اس کی صحت اور حفاظت کے لیے کیا پالتو بلی کی نس بندی (آپریشن) اسلام میں حلال ہے؟ میں افزائش نہیں چاہتا اور اس کی صحت کی حفاظت کرنا چاہتی ہوں۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ!
واضح ہو کہ پالتو جانوروں کی نس بندی کرنا کسی منفعت کے لیے ہو یا کسی مضرت سے دور کرنے کے لیے ہو تو جائز ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنی مادہ پالتو بلی کی نس بندی کروانا جائز اور درست ہے۔
كما في الدرالمختار: (و) جاز (خصاء البهائم) حتى الهرة واما خصائم الادمي فحرام قيل والفرس وقيدوه بالمنفعة والافحرام اھ(فصل في البيع،ج:٦،ص:٣٨٨،ط:سعيد)
وفي الدرر الحكام في شرح غرر الاحكام:[خصاء البهائم وإنزاء الحمير على الخيل](قوله: وخصاء البهائم) شامل للسنور وبه صرح في البزازية وفيها لاباس بكي الاغنام وكي الصبي ان من مرض لاباس به اھ(كتاب الكراهية والاستحسان،ج:١،ص:٣١٩،ط:دار احياء الكتب العلمية)