السلام علیکم ! میں زرعی ترقیاتی بینک کےمین برانچ میں اکاؤنٹس سیکشن میں جاب کرتا ہوں، کیا میری جاب حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ کسی بھی سودی بینک میں اس طرح کی ملازمت اختیار کرنا جس کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہو شرعاً ناجائز اور اس کی تنخواہ حرام ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا زرعی ترقیاتی بینک میں اکاؤنٹس سیکشن پر کام کرنا ایسی ملازمت ہے کہ جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین ،لکھت پڑھت اور حساب کتاب سےہے ،لہذا یہ کام شرعاً جائز نہیں اور اس پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال وطیب نہ ہوگی ، اس طرح کی نوکری سے احتراز لازم ہے ۔
کماقال اللہ تعالیٰ: "یٰا أیہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا ان کنتم ٓمؤمنین"۔ (سورۃ البقرۃ،آیت: 278)۔
وفي الصحيح للامام مسلم رحمہ اللہ: "عن جابر، قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء"۔ (باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج: 2، ص: 27، مط: قدیمی کتب خانہ)
وفی تکملۃ فتح الملھم: قولہ: "وکاتبہ" لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ، ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لایجوز، فإکان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذالک حرام لوجھین: الاول: إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی: أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، وأما إذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال، واللہ اعلم الخ ( باب لعن آکل الربا وموکلہ ، ج: 1، ص: 619، مط: دارالعلوم کراتشی )۔
اگر بینک منیجر کی تنخواہ حرام ہو تو بینک میں منیجر کی ذمہ داری کون پوری کرے؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0