السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں ایک نوکری کے لیے اپلائی کرنا چاہتی ہوں، میرے پاس دستاویزی (documented) تجربہ نہیں ہے،میں بے روزگار اور غیر شادی شدہ ہوں، اور ایک دائمی بیماری (chronic illness) کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہے، میرے پاس مطلوبہ ڈگری ہے اور ایک سال کا دستاویزی تجربہ بھی ہے، جبکہ اس نوکری کے لیے تدریس اور انتظامیہ میں 5 سال کا تجربہ درکار ہے، میں 9 سال سے ٹیوشن پڑھا رہی ہوں اور میرے پاس مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن میں ڈگری بھی ہے، کیا میرے لیے اس نوکری کے لیے جعلی تجربے کی بنیاد پر اپلائی کرنا درست ہے یا نہیں؟ میرے لیے نوکری بہت ضروری ہے، تاکہ میں اپنے اخراجات خود پورے کر سکوں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت موجود ہو اور حقیقتاً نو (9) سال ٹیوشن پڑھانے کا تجربہ بھی ہو، لیکن وہ تجربہ دستاویزی شکل میں موجود نہ ہو، توسائلہ ملازمت کے حصول کےلیے جن اداروں میں ٹیوشن پڑھاتی رہی ہے، ان کاتصدیق نامہ (Experience Letters) یا انٹرویووکے دوران حقیقی تجربے کو درست انداز میں بیان کرتےہوئے یہ وضاحت کرسکتی ہے کہ اسے غیر رسمی تدریسی تجربہ حاصل ہے، چنانچہ سائلہ کو اپنی اصل قابلیت اورحقیقی تدریسی تجربے و مہارت کی بنیادپر ملازمت کے لیے درخواست دینے کااہتمام چاہیے۔
لہذا سائلہ کا ملازمت کے حصول کے لیے جعلی تجربہ نامہ بنوانا یا ایسے تجربے کا دعویٰ کرنا جو حقیقت میں حاصل نہ ہو اور اس بنیاد پر ملازمت حاصل کرناجائزنہیں ،جس سے احترازلازم ہے ۔
کما فی سنن أبی داؤد: حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما فسأله كيف تبيع؟ فأخبره فأوحي إليه أن أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش» (3/272 رقم الحدیث 3452)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله؛ لأن الغش حرام) (الی قولہ) قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته،الخ (5/47 )۔