السلام علیکم؛ پاکستان کے اندر کچھ سرکاری ادارے موجود ہیں ،جن کے اندر مختلف طرح کے ڈاکومنٹس تیار کیے جاتے ہیں اور ان کو اٹیسٹ کیا جاتا ہے ،بیرون ممالک کی ضرورت کے طور پر جس میں لوگ نوکری کے لیے جاتے ہیں، تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں یا نیشنلٹی حاصل کرنے کے لیے مختلف ڈاکومنٹس مختلف طرح کے ان کو اٹیسٹ بھی کروایا جاتا ہے اور تیار بھی کیا جاتا ہے ، پاکستان کے مختلف ادارے ان کے لیے مخصوص بھی ہیں اور موجود بھی ہیں، اب لوگ اپنی آسانی کے لیے ان ڈاکومنٹس کو اٹیسٹ کروانے کے لیے، تیار کروانے کے لیے، بنوانے کے لیے ، بطور ایجنٹ کام کرنے والے کچھ لوگوں کو جو کہ یہ کام بطور سوشل میڈیا حاصل کرتے ہیں، لوگوں سے وہ کام پیپر وصول کرتے ہیں اور پھر یہ لوگ جن کے پیپر ہوتے ہیں ان ایجنٹ کو پیسے دے کر اپنا کام کرواتے ہیں، یہ ایجنٹ کام سرکاری ادارے میں موجود ملازمین کو کچھ پیسے دے کر ان سے کام کروا لیتے ہیں، کیا یہ پیسے جو ایجنٹ بطور کام کے لیتے ہیں، جائز ہیں؟ ایجنٹ کام اس طرح کرتا ہے کہ وہ کچھ پیسے لے کر کچھ پیسے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں ،کچھ آگے سرکاری ملازمین کو پیسے دے کر ڈرف کام کروا لیتے ہیں، کیا یہ کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یہ پیسے حلال ہیں؟
واضح ہوکہ اگر ایجنٹ صرف جائز و قانونی طریقے سے لوگوں کے کاغذات جمع کروا کر، مقررہ سرکاری فیس ادا کرکے اپنی محنت، وقت اور خدمات کے عوض متعین اجرت وصول کرتا ہو، تو اس کی یہ اجرت شرعاً جائز ہے۔
البتہ اگر وہ سرکاری ملازمین کو ان کی سرکاری ذمہ داری ادا کرنے کے بدلے خفیہ طور پر اضافی رقم (رشوت) دے کر کام کرواتا ہو، خواہ جلدی کرانے کے لیے ہو یا ضابطے کے خلاف سہولت حاصل کرنے کے لیے، تو ایسی رقم کا لین دین شرعاً ناجائز ہے۔ اس صورت میں سرکاری ملازم کے لیے اس رقم کا لینا اور ایجنٹ کے لیے اس ناجائز معاملے میں واسطہ بننارشوت کے لین دین کامعاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائزاورحرام ہے۔جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
البتہ اگر کسی شخص کا جائز اور قانونی حق رشوت دیے بغیر حاصل نہ ہو رہا ہو اور مجبوری میں محض اپنا حق حاصل کرنے کے لیے رقم دینی پڑے، تواس کا گناہ لینے والے پر ہوگا، مجبور ہو کر دینے والے پرنہیں ہوگا، تاہم ایسی صورت میں بھی ایجنٹ صرف بقدرِ ضرورت نمائندگی کرے، اسے کاروبار اور ذریعۂ آمدن بنانے سے احترازچاہیے ۔
کما فی سنن ابی داوٗد: عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ، عن عبد الله بن عمرو ، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي (باب في كراهية الرشوة، ج:1، ص:1356، رقم:3580، م:البشرٰی)
وفی المبسوط: ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم لعن الله في الخمر عشرة، وقال صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] اھ۔ (کتاب الصرف، ج: 14، ص: 8، م:دارالمعرفة)