السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت! ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔
میں ایک SEO (Search Engine Optimization) پروفیشنل ہوں۔ حال ہی میں مجھے ایک امریکی پیزا ریسٹورنٹ برانڈ کے بانی (Founder) کی طرف سے کام ملا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی برانڈ ہے جس کی مختلف برانچیں دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قطر میں اس کی برانچیں ہیں اور سعودی عرب اور دبئی میں بھی نئی برانچیں کھلنے والی ہیں۔ ان میں سے بعض مڈل ایسٹ کی برانچیں خاص طور پر حلال مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر قائم کی جا رہی ہیں۔
فی الحال میرا کام صرف امریکہ میں موجود ان کی مختلف لوکیشنز سے متعلق ہے۔
میں نے کلائنٹ سے گوشت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ گوشت حلال سرٹیفائیڈ وینڈرز سے خریدتے ہیں۔
البتہ ریسٹورنٹ کے مینو میں بعض ایسی اشیاء بھی موجود ہیں جو شرعاً حرام ہو سکتی ہیں، مثلاً
Italian sausage
Pepperoni
Canadian bacon
Prosciutto
Fig bacon
بعض پاستا ڈشز میں wine-based sauces
مزید یہ کہ ویب سائٹ اور Google Business Profile کے مینو میں براہِ راست beer یا دیگر alcoholic drinks درج نہیں ہیں، لیکن چونکہ یہ امریکہ میں واقع ریسٹورنٹس ہیں اس لیے ممکن ہے کہ ریسٹورنٹ کے اندر کاؤنٹر پر wine یا beer وغیرہ دستیاب ہو، اگرچہ ان کی تشہیر ویب سائٹ یا Google Business Profile میں ظاہر نہیں کی گئی۔
میرا کام اس برانڈ کے ساتھ دو منصوبوں (Projects) پر مشتمل ہے
1۔ ریسٹورنٹ SEO پروجیکٹ
اس میں میری ذمہ داریاں یہ ہیں کہ
امریکہ میں موجود مختلف برانچوں کی Google Business Profiles کو manage اور optimize کرنا
لسٹنگز میں موجود مسائل کو درست کرنا
ویب سائٹ کے لیے SEO strategy اور content plan بنانا
ویب سائٹ میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے اس بارے میں مشورہ دینا
اہم بات یہ ہے کہ
ہم خود ویب سائٹ develop یا publish نہیں کرتے۔
ایک دوسری development agency ہماری دی ہوئی strategy اور content کو ویب سائٹ پر publish کرتی ہے۔
2۔ پیزا فرنچائز مارکیٹنگ پروجیکٹ
اسی برانڈ کے ایک اور منصوبے میں بھی میں شامل ہوں جس کا مقصد پیزا فرنچائز کے لیے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو متوجہ کرنا ہے۔
اس منصوبے میں
Google Ads اور SEO کے ذریعے فرنچائز سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔
ویب سائٹ اور لینڈنگ پیجز کو publish اور manage کرنا ایک دوسری agency کی ذمہ داری ہے۔
میری ذمہ داری صرف SEO strategy، optimization، Google Ads management اور marketing consultation تک محدود ہے۔
یہ دونوں منصوبے ایک ہی معاہدے (Contract) کا حصہ ہیں۔ اس سے پہلے میں صرف دوسرے پروجیکٹ کے سلسلے میں ان سے کچھ ادائیگی لے چکا ہوں، جبکہ اس وقت دونوں پروجیکٹس کو ملا کر جو موجودہ سروس فیس بنتی ہے وہ تقریباً 40 فیصد کے برابر بنتی ہے۔
مزید یہ کہ اس وقت میرے پاس کوئی اور کلائنٹ یا پروجیکٹ نہیں ہے جس سے آمدنی ہو رہی ہو۔ اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو فی الحال میرے پاس کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہیں ہوگا۔
سوال:
اگر کسی ریسٹورنٹ برانڈ کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ
کلائنٹ کے مطابق گوشت حلال سرٹیفائیڈ وینڈرز سے لیا جاتا ہے۔
لیکن مینو میں کچھ حرام اشیاء بھی موجود ہیں جیسے pepperoni، bacon، prosciutto اور wine-based sauces۔
ویب سائٹ اور Google Business Profile کے مینو میں براہِ راست alcoholic drinks درج نہیں ہیں، لیکن ممکن ہے کہ ریسٹورنٹ کے اندر wine یا beer کا کاؤنٹر موجود ہو۔
اور میرا کام صرف Google Business Profiles manage کرنا، SEO strategy بنانا اور marketing consultation دینا ہے۔
جبکہ ویب سائٹ develop یا publish کرنا میری ذمہ داری نہیں۔
تو کیا اس طرح کے کام کے بدلے سروس فیس لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ذمہ داری صرف تکنیکی امور تک محدود ہو جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہے کہ اس کا کام ان سائٹس کو سرچ انجن کے اصولوں کے مطابق بہتر بنانا، ویب سائٹ کے انتظام اور موبائل فرینڈلی بنانا اور دوسری ویب سائٹس سے بیک لنکس کے ذریعے ٹریفک حاصل کرنا ہے۔ اس طرح ویب سائٹ کو رینک (Rank) حاصل ہوتا ہے اور کاروبار زیادہ لوگوں تک پہنچتا ہے۔تو ایسی صورت میں اگر وہ کاروبار عموماً حلال پروڈکٹس پر مشتمل ہے اور بعض اشیاء کے حرام ہونے کا واضح یقین نہیں تو اس صورت میں ایس ای او (SEO) کرنا درست ہے اور سائل کے لئے مذکور ملازمت اختیار کرنا جائز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے۔ بصورتِ دیگر اگر وہ کاروبار عموماً حرام اشیاء پر مشتمل ہوتو اس کی تشہیر کرنا تعاون علیٰ المعصیہ ہے اور اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی تفسير الطبري: وقوله"ولا تعاونوا على الإثم والعدوان"، يعني: ولا يعن بعضكم بعضا "على الإثم"، يعني: على ترك ما أمركم الله بفعله "والعدوان"، يقول: ولا على أن تتجاوزوا ما حد الله لكم في دينكم، وفرض لكم في أنفسكم وفي غيركم. اھ(ج:9 ،ص:490 ،ط: دار التربیۃ و التراث)
و فی المحيط البرهاني: ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز، ويطيب له الأجر.وكذلك لو أن امرأة استكتبته كتابا، إلى حبها جاز ويطيب له الأجر؛ لأنه بدل عمله، وقال أبو حنيفة: لا تجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة؛ ولأن الأجير مع المستأجر يشتركان في منفعة ذلك فتكون هذه الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك.اھ(الفصل الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارات وما لا يجوز،ج:7، ص:482 ،ط:دار الکتب العلمیۃ)