میں گزشتہ ڈھائی سال سے اٹلی میں رہ رہا ہوں ،اور یہاں ایک طالب علم ہوں، میں مسلمان ہوں، اور گزشتہ ڈھائی سال سے مجھے ایک اسکالرشپ حاصل تھی ،جو میرے رہنے اور کھانے کے تمام اخراجات پورے کرتی تھی،اب میری اسکالرشپ ختم ہو چکی ہے، اور میرے پاس تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ ماہ کے اخراجات کے لیے رقم باقی ہے،اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں یہاں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کی نوکری کر سکتا ہوں، حالانکہ ممکن ہے کہ مجھے ایسا کھانا بھی ڈیلیور کرنا پڑے جس میں سور کا گوشت استعمال ہوتا ہو، جیسے پیزا؟
میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں ،کیونکہ مجھے اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سائیکل خرید کر یہ کام شروع کروں، کیونکہ اگر بعد میں سائیکل خریدنے کا ارادہ کیا، تو میرے لیے اس کے لیے رقم کا انتظام کرنا مشکل ہو جائے گا۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل کو اگر فوڈ ڈیلیوری کی نوکری میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں کے گھروں تک پہنچانی پڑیں ، تو ایسی صورت میں اسکے لئے فوڈ ڈیلیوری کی ملازمت اور اس پر ملنے والا معاوضہ حلال ہو گا، البتہ اگر کبھی کبھار سائل کو حرام اشیاء بھی گھروں تک پہنچانی پڑیں، تو اولاً سائل کو چاہیے کہ حتی الامکان حرام چیزوں کی ڈیلیوری سے اجتناب کرے ،اور اگر ممکن ہو تو متعلقہ ادارے کو مطلع کر کے حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے بچنے میں بھر پور کوشش کرے، تاہم اسکے باوجود بھی اگر مجبوراً کبھی کبھار ایسا کرنا پڑ جائے، تو اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرے، اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض جتنا معاوضہ ملے، اتنی رقم صدقہ کر دیا کرے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: (وتعاونوا على البر والتقوى يقتضى ظاهره ايجاب التعاون على كل ما كان طاعة الله تعالى، لان البر هو طاعات الله وقوله تعالى: (ولا تعاونوا على الاثم والعدوان نهى عن معاونة غيرنا على معاصى الله تعالى )، (مطلب البيان من الله تعالى على وجهين،ج: 2،ص: 214،مط: دارالکتب العلمیہ۔)
و فی سنن الترمذی: عن أنس بن مالك قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له،( باب النهي أن يتخذ الخمر خلا،ج: 2،ص: 567،رقم الحدیث 1295،مط: دارالغرب الاسلامی۔)
و فی فقہ البیوع: والحاصل: ان الاجارۃ فی الخدمۃ المباحۃ انما تصح اذا کانت اجرتھا معلومۃً بانفرادھا،ولا تصح فیما اذا لم تکن اجرتھا معلومۃً،فان کان کذالک فی خدمات الفنادق والمطاعم والبنوک وشرکات التامین،صارت اجرۃ الموظف فیھا مرکبۃً من الحلال والحرام،فدخلت فی الصورۃ الثالثۃ من القسم الثالث،وحل التعامل معہ بقدر الحلال اھ،(باب حکم الفنادق والمطاعم التی تباع فیھا الخمور،ج: 2،ص: 1023،مط: معارف القراٰن۔)