میں ایک نہایت حساس معاملے میں آپ سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں، خاص طور پر فقہ حنفی کی روشنی میں۔
میری اہلیہ حاملہ ہیں اور اس وقت حمل کو تقریباً 107 دن ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں امینیو سینٹیسس (amniocentesis) ٹیسٹ کروایا گیا جس کے ذریعے بچے میں ٹرنر سنڈروم کی تصدیق ہوئی ہے۔
فی الحال اس بیماری کی شدت کے حوالے سے مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں نے مزید جانچ کے لیے فیٹل ایکو (بچے کے دل کا تفصیلی معائنہ) تجویز کیا ہے تاکہ ممکنہ دل کی پیچیدگیوں کا اندازہ لگایا جا سکے، جو اس سنڈروم کے ساتھ بعض اوقات ہوتی ہیں۔ تاہم یہ ٹیسٹ تقریباً دو ہفتے بعد مقرر ہے، جس وقت تک حمل غالباً 120 دن سے تجاوز کر جائے گا۔
ہمیں معلوم ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق 120 دن کے بعد اسقاط حمل صرف اس صورت میں جائز ہوتا ہے جب ماں کی جان کو خطرہ ہو۔ جبکہ 120 دن سے پہلے بعض مخصوص حالات میں کچھ گنجائش موجود ہو سکتی ہے، خصوصاً جب کوئی سنگین طبی مسئلہ ہو۔
مندرجہ ذیل صورتحال کے پیش نظر ہم آپ سے رہنمائی کے طلبگار ہیں:
• ٹرنر سنڈروم کی تشخیص امینیو سینٹیسس کے ذریعے کنفرم ہو چکی ہے
• بیماری کی شدت (خاص طور پر دل کے مسائل) ابھی واضح نہیں ہے
• 120 دن کی حد قریب ہے اور ممکن ہے کہ مکمل طبی معلومات اس سے پہلے دستیاب نہ ہوں
براہِ کرم درج ذیل سوالات پر رہنمائی فرمائیں:
1. کیا اس صورت میں، جب بیماری کی تصدیق ہو چکی ہو مگر شدت واضح نہ ہو، 120 دن سے پہلے اسقاط حمل کی اجازت ہے؟
2. کیا ہمیں فیٹل ایکو کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے، چاہے اس سے 120 دن کی مدت گزر جائے؟
3. کیا صرف ٹرنر سنڈروم بذاتِ خود فقہ حنفی میں اسقاط حمل کی اجازت کے لیے کافی وجہ ہے؟
ہم اس معاملے میں شریعت کے مطابق درست فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی رہنمائی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔
برائے مہربانی اس معاملے کی حساسیت اور وقت کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد رہنمائی فراہم فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا
صورت مسئولہ میں حمل کو مذکور بیماری لاحق ہونے کی تشخیص ہوگئی ہو ، اور ماہر مسلمان ،دیندار طبیب، اس حمل کو ساقط کرنے کا مشورہ دیتے ہو،تو اس عذر کی بناء پر حمل میں روح پڑجانے سے پہلے پہلے(جس کی مدت چار ماہ ہے) اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوتی ہے،جبکہ چار ماہ پورا ہونے کے بعد کسی صورت میں بھی حمل گرانا جائزنہ ہوگا ،بلکہ ایک جان کے قتل کے مترادف ہوگا، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: و یکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور وفی الرد تحت قوله (ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك اھ(کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع ج:6،ص:429، ،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.:العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز اھ (الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، ج:5،ص:356، ،مط:مکتبہ ماجدیہ)