حجِ تمتع ادا کرنے کے بعد ہم 8 دن مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے۔ کیا ہم طوافِ وداع سے پہلے مزید عمرے کر سکتے ہیں؟ کیونکہ مکہ سے عمرہ کرنے کے لیے حدودِ حرم سے باہر یا میقات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص طوافِ وداع کیے بغیر میقات سے باہر چلا جائے تو کیا اس پر دم یا کوئی جرمانہ لازم ہوگا؟ اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں۔ اگر نیت صرف عمرہ کرنے اور پھر دوبارہ مکہ واپس آنے کی ہو تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ حاجی کے لیے حج تمتع کے ارکان مکمل کرنے اور ایام تشریق گزرنے کے بعد طواف وداع سے قبل عمرے کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ایسا کرنا افضل اور باعثِ اجر وثواب ہے، لہذا سائل اور اس کے رفقاء حج کے بعد جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں، ان کے لیے طواف وداع سے قبل مسجد عائشہ یا حل کے کسی اور مقام سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ کی ادائیگی کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ اگر کبھی کبھار سائل اور اس کے رفقاء کو میقات سے باہر جانا ہو تو چونکہ طوافِ وداع سے قبل میقات سے نکلنے کو فقہاء کرام رحمہم اللہ نے موجب دم قرار دیا ہے، اس لیے اگر سائل اور اس کے رفقاء طواف وداع سے قبل میقات سے بھی باہر چلے جائیں تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ دم دینا لازم ہوگا، لیکن اگر وہ عمرے کا احرام باندھ کر واپس مکہ مکرمہ آجائیں اور عمرے کی ادائیگی کے بعد طوافِ وداع ادا کرلیں تو ایسی صورت میں اگرچہ ان سے دم ساقط ہوجائے گا، لیکن ایسا کرنا برا اور نامناسب عمل ہے، لہذا سائل اور اس کے رفقاء کو اگر میقات سے بھی باہر نکلنا ہو تو ان کےلیے بہر صورت بہتر یہ ہے کہ طواف وداع کے بعد میقات سے باہر جانے کا اہتمام کریں۔
ففي غنية الناسك: واذا دخل مكة فليغتنم مدة مقامه بها وليكثر من الطواف واذا مضت أيام التشريق أتى بعمرة الاسلام أو بعمرة التطوع ويستحب الاكثار منها قال صلى الله عليه وسلم: تابعوا بين الحج والعمرة فانهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة رواه الترمذي والنسائى. وفي السراجية: واذا مضت أيام التشريق فانهم يعتمرون ما شاءوا بنية أنفسهم وابائهم واخوانهم وينبغي أن لا يخرج من مكة حتى يختم القران فان ذلك مستحب في المساجد الثلاثة ومهبط الوحي آكد. (شرح) (مطبع: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، ص: 189)
وفيها أيضا: [فصل في من خرج من مكة ولم يطف]
يجب عليه العود بلا إحرام ما لم يجاوز الميقات، فإن جاوزه لم يجب الرجوع عينا، بل إما أن يمضى وعليه دم، وإما أن يرجع بإحرام عمرة، أو حج، فإذا رجع ابتدأ بطواف العمرة، ثم يطوف للصدر، ولا شيء عليه للتأخير، ويكون مسيءا، والأولى أن لا يرجع بعد المجاوزة، ويبعث دما لأنه أنفع للفقراء، وأيسر عليه. (مطبع: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، ص: 191)