بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب!
میں ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہوں۔ ہماری یونیورسٹی میں اسلامی جمعیتِ طالبات کی جانب سے درسِ قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس درس میں جمعیت کی طالبات قرآنِ کریم کے کسی رکوع کی تلاوت کرتی ہیں، پھر اس کا ترجمہ بیان کرتی ہیں، اور اس ترجمے کی روشنی میں مختصر گفتگو بھی کرتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی آیت میں کوئی مثال مذکور ہو تو اس کی وضاحت کرتی ہیں، یا تقویٰ وغیرہ جیسے موضوعات کی تشریح کرتی ہیں۔
مولانا مودودی رحمہ اللہ کے عقائد کے بارے میں میں کافی کچھ پڑھ چکی ہوں، اور جماعتِ اسلامی کے بارے میں بھی کچھ معلومات رکھتی ہوں۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ ایسے درسِ قرآن میں شرکت کرنا شرعاً کیسا ہے، جس میں باقاعدہ کسی مستند عالمہ کی جانب سے تفسیر بیان نہ کی جاتی ہو، بلکہ اسلامی جمعیتِ طالبات سے وابستہ طالبات ہی قرآن کا ترجمہ اور اس پر مختصر گفتگو کرتی ہوں؟
کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہیں کسی جماعت سے وابستگی یا عدم وابستگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور اگر درس میں اچھی اور مفید باتیں بیان کی جائیں تو اس میں شرکت میں کوئی حرج نہیں۔
براہِ کرم اس مسئلے میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں اور جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں، کیونکہ بہت سے لوگ اس معاملے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔
والسلام
قرآنِ کریم کا درس، اس کا ترجمہ اور دینی نصیحت سننا فی نفسہٖ باعثِ اجر و ثواب ہے، تاہم قرآن کی تفسیر و تشریح نہایت ذمہ داری کا کام ہے، اس لیے اس میدان میں ایسے افراد کی بات کو ترجیح دی جانی چاہیے جو مستند اہلِ علم سے باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرچکے ہوں اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد و منہج کے پابند ہوں۔لہٰذا اگر مذکورہ درس میں صرف مستند تراجم اور معتبر تفاسیر کی روشنی میں قرآن کا مفہوم بیان کیا جاتا ہو، اور اس میں عقائد اہلِ سنت کےخلاف، جماعتی تعصب، اہلِ علم کی تنقیص یا غیر ثابت نظریات کی ترویج نہ کی جاتی ہو، تو محض اسلامی جمعیتِ طالبات سے وابستگی کی وجہ سے اس میں شرکت کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، بلکہ مفید باتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اگر ان دروس میں ایسی آراء، افکار یا تعبیرات پیش کی جاتی ہوں جو جمہور اہلِ سنت کے مسلک کے خلاف ہوں، یا قرآن کی تفسیر محض ذاتی فہم و رائے کی بنیاد پر کی جاتی ہو، تو ایسے اجتماعات سے اجتناب کرنا چاہیے، اور دین کی تعلیم مستند علماء و عالمات سے حاصل کرنی چاہیے۔چنانچه مذکورہ دروس كامنہج اور مواد اگرشرعی حدود اور علمی اصولوں کے مطابق ہوں تو اس ميں شرکت کی گنجائش ہے، ورنہ احتیاط اسی میں ہے کہ مستند اہلِ علم کے حلقاتِ درس کو اختیار کیا جائے۔