السلام علیکم، میرے والد بہت ظالم ہیں۔ انہوں نے بچپن سے لے کر آج تک میری والدہ پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے۔ شادی کے بعد انہیں دوسرے ملک لے گئے اور وہاں جا کر کبھی پاکستان واپس نہیں آنے دیا۔ حتیٰ کہ والدہ کے والدین کے انتقال پر بھی انہیں پاکستان نہیں جانے دیا۔ کہتے تھے کہ اگر اپنی مرضی سے جاؤ گی تو طلاق دے دوں گا اور بچوں کو بھی چھین لوں گا۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔ جب بچوں کی پڑھائی کی عمر تھی تو سات سال کے بیٹے کو اکیلے پاکستان بھیج دیا، پھر جوان بیٹی کو بھی اکیلے بھیج دیا، لیکن اپنی بیوی کو جانے نہیں دیا۔ اب جبکہ بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور بیٹا اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے ملک میں رہتا ہے، پھر بھی والد کا رویہ ویسا ہی ہے۔ والدہ کو اپنی مرضی سے ایک قدم چلنے یا کسی سے ملنے تک کی اجازت نہیں۔ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو مارتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ بیٹیوں کی مجبوری نہیں سمجھتے کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ہر وقت اپنے والدین کے گھر نہیں آ سکتیں، پھر بھی انہیں تنگ کرتے ہیں، بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طلاق لے کر واپس آ جاؤ کیونکہ ہم اکیلے ہیں۔ سسرال والوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کرتے ہیں۔ بیٹے کی بیوی سے بھی ان کی نہیں بنتی، اس لیے وہ ان کے پاس بھی نہیں جا سکتے۔ پیسہ ہے، غرور اپنے عروج پر ہے، دوسروں کو حقیر اور فقیر سمجھتے ہیں، انا، تکبر، بدتمیزی اور سخت مزاجی ہر بات میں نمایاں ہے۔ ہم سب ایک ہی شخص کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ کچھ عرصے کے لیے انہیں کسی ایسی جگہ بھیج دیا جائے یا رکھا جائے جہاں سے ہمیں کچھ سکون مل سکے۔ ہم ان کی زندگی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، صرف کچھ عرصے کی دوری چاہتے ہیں۔ کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں؟ براہِ کرم ہمیں مشورہ دیں۔ شکریہ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی خلاف حقیقت اور کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے والد کا مذکور رویہ ظلم اور بیوی بچوں کی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر اللہ تعالیٰ کے حضور بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا اہتمام کرے۔
تاہم والد کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے باوجود وہ اگر توبہ تائب ہو کر اپنے رویہ سے باز نہ آئیں تو ایسی صورت میں بیوی (سائلہ کی والدہ) کے لیے شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے بیٹے کے ساتھ رہنے یا کسی دوسری جگہ شادی کرنے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ بیٹے کے لیے والد سے مستقل طور پر قطع تعلق کرکے انہیں کسی ایسی جگہ رکھنا جہاں ان کی خدمت اور دیکھ بھال کا مناسب انتظام نہ ہوسکے، قطعاً درست نہیں، بلکہ اگر والد خدمت کے محتاج ہوں تو بیٹے کے ذمہ لازم ہے کہ وہ والد کی خدمت اور دیکھ بھال کو سعادت مندی سمجھ کر بجا آوری کرتا رہے، محض والد کے سخت رویہ کی وجہ سے والد کو بے یارو مددگار چھوڑنا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائلہ اور اس کی بہن کی چونکہ شادیاں ہوچکی ہیں، اس لیے بیٹے کی موجودگی میں اب ان کے ذمہ شرعاً والد کی خدمت اور دیکھ بھال لازم نہیں، چنانچہ سائلہ کے والد کا سائلہ اور اس کی بہن کو طلاق لیکر واپس گھر بلانے کا مطالبہ درست نہیں اور نہ ہی سائلہ اور اس کی بہن کے ذمہ اس کی تعمیل لازم ہے، تاہم وقتاً فوقتاً شوہر کی اجازت سے والدین سے ملاقات کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے، تاکہ ان کی دل آزاری سے بچا جاسکے۔
ففي مشکاة المصابیح: "عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان." (کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: 421، ط: قديمي)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: «قال ابن حجر: شرط للمبالغة باعتبار الأكمل أيضا أي: لا تخالف واحدا منهما، وإن غلا في شيء أمرك به، وإن كان فراق زوجة أو هبة مال، أما باعتبار أصل الجواز فلا يلزمه طلاق زوجة أمراه بفراقها، وإن تأذيا ببقائها إيذاء شديدا؛ لأنه قد يحصل له ضرر بها، فلا يكلفه لأجلهما؛ إذ من شأن شفقتهما أنهما لو تحققا ذلك لم يأمراه به فإلزامهما له مع ذلك حمق منهما، ولا يلتفت إليه، وكذلك إخراج ماله» (1/ 133)