کیا فرماتے ہیں مفیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک ادارہ ہے جس میں ایک آدمی کام کرتا ہے ،اور ادارے والے اس آدمی کو اس کے کام کی جائز اجرت نہیں دے رہے ہے ،اور کام اجرت سے کئی زیادہ لے رہے ہے ،جو کام اس کے ذمے طے ہوا تھا اس سے بھی زیادہ لے رہے ہے ،اسی طرح ادارے کے ذمہ دار لوگ ادارے کے مال میں کرپشن کرتے ہے اور اس مال میں اس آدمی کا مال بھی شامل ہے ، اور یہ کرپشن کئی سالوں سے ہورہا ہے اور اس آدمی کو بھی اس بارے میں پتہ ہے، تو کیا ادارے کی اجرت نہ دینے کی صورت میں مذکور شخص کیلئے یہ جائز ہے کہ ان کے پاس جو انکم آتی ہے ان سے اپنی اجرت لے لے ؟اسی طرح جو لوگ کرپشن کرتے ہے ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ،اور کیا ادارے کے بڑے لوگوں کے سامنے ان کی یہ بات رکھنی چاہے یا نہیں ،اسی طرح مذکور ادارہ کھانے پینے کا ادارہ ہے لیکن وہ ملازمین کا کوئی خیال نہیں رکھتا ہے کئی کئی ہفتے رکھا ہوا پرانا گوشت اور باسی روٹی کھلاتے ہے ،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ کسی بھی فرد یا ادارے وغیرہ میں کام شروع کرتے وقت ابتداء میں فریقین اپنی مرضی واختیار سے اٰجرت کی کوئی مقدار رکھ سکتے ہیں لیکن جب باہمی رضامندی اور اتفاق رائے سے فریقین کسی متعین اٰجرت پر اتفاق کر لیں تو بعد میں مفوضہ أمور کی انجام دہی پر ملازم طے شدہ اٰجرت کا حقدار ہوتا ہے اسے زائد اٰجرت کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوتا،البتہ کسی بھی ادارے یا فرد کا کسی شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ملازم کی کام کی نوعیت اور مفوضہ ذمہ داری سے کم اٰجرت متعین کرنا یا بغیر معاوضہ کے اضافی کام لینا شرعاً ،اخلاقاً، اور قانوناً غلط ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور شخص کو اگر حسب معاہدہ ماہانہ طے شدہ اٰجرت پوری دی جارہی ہو تو اس کے لیے ادارے کے ذمہ دار حضرات کو بتائے بغیر از خود ادارے کی آمدنی سے مزید رقم لینا جائز نہیں ،بلکہ یہ اٰمانت میں خیانت کی وجہ سے حرام ہوگی ،اس لیے ایسا کرنے سے اسے احتراز لازم ہے ،البتہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو لے کر انتظامیہ سے اپنی اجرت بڑھانے کی درخواست کرسکتا ہے ،جبکہ ادارے کے بڑے عہدوں پر فائز افراد کا ادارے کے مال میں کرپشن کرنا یا ملازمین کی حق تلفی کرتے ہوئے انھیں ہفتہ بھر کا باسی کھانا کھلانا درست طرز عمل نہیں ، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،اس لیے ان افراد پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائز طرز عمل کو چھوڑ کر ادارے کا مال اس کے مقرر کردہ مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام کریں ،وگرنہ مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہو سکے گی ،نیز مذکور آدمی اگر ان سربراہ افراد کے کرپشن کا مسلسل مشاہدہ کرتا آر ہا ہو ،اور وہ افراد اپنے اس طرز عمل کو چھوڑنے کو تیار بھی نہ ہو ،تو اسے چاہیے کہ وہ حکمت وبصیرت سے انتظامیہ کو اس پر مطلع کردے ،اور انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ ثبوت جرم کے بعد ان افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ،ان اسامیوں پر اہل اور دیانتدار افراد کو متعین کرنے کا اہتمام کرلے تاکہ لوگوں کا مال صحیح مصارف تک پہنچ سکے،وگرنہ وہ بھی اس جرم میں ان کے معاون شمار ہوکر گناہ گار ہوں گے۔
کما قال الله تعالى:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾۔(البقرة:188)
و فی سنن الترمذی: عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إخوانكم جعلهم الله فتية تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه من طعامه، وليلبسه من لباسه، ولا يكلفه ما يغلبه، فإن كلفه ما يغلبه فليعنه،(باب ما جاء في الإحسان إلى الخدم،ج: 4،ص: 334،رقم الحدیث: 1945،مط: دار الرسالة العالمیه)
و فی الھندیه: إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق،اھ (الباب السابع في حد القذف والتعزير،فصل في التعزير،ج: 2،ص: 167،مط: دار الفکر)
و فی دررالحکام: (وإنما يستحق) أي لا يستحق الأجير المشترك (الأجر) إلا (بعمله كالصباغ ونحوه) ؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بين العوضين فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر وهو العمل لا يسلم للأجير العوض وهو الأجر،اھ(باب في الأجير،ج: 2،ص: 235،مط: دار احیاء الکتب العربیة)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0