ملازمت

ملازم کو اس کے کام کی صحیح اجرت نہ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
96741
| تاریخ :
2026-06-23
معاملات / مالی معاوضات / ملازمت

ملازم کو اس کے کام کی صحیح اجرت نہ دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک ادارہ ہے جس میں ایک آدمی کام کرتا ہے ،اور ادارے والے اس آدمی کو اس کے کام کی جائز اجرت نہیں دے رہے ہے ،اور کام اجرت سے کئی زیادہ لے رہے ہے ،جو کام اس کے ذمے طے ہوا تھا اس سے بھی زیادہ لے رہے ہے ،اسی طرح ادارے کے ذمہ دار لوگ ادارے کے مال میں کرپشن کرتے ہے اور اس مال میں اس آدمی کا مال بھی شامل ہے ، اور یہ کرپشن کئی سالوں سے ہورہا ہے اور اس آدمی کو بھی اس بارے میں پتہ ہے، تو کیا ادارے کی اجرت نہ دینے کی صورت میں مذکور شخص کیلئے یہ جائز ہے کہ ان کے پاس جو انکم آتی ہے ان سے اپنی اجرت لے لے ؟اسی طرح جو لوگ کرپشن کرتے ہے ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ،اور کیا ادارے کے بڑے لوگوں کے سامنے ان کی یہ بات رکھنی چاہے یا نہیں ،اسی طرح مذکور ادارہ کھانے پینے کا ادارہ ہے لیکن وہ ملازمین کا کوئی خیال نہیں رکھتا ہے کئی کئی ہفتے رکھا ہوا پرانا گوشت اور باسی روٹی کھلاتے ہے ،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی فرد یا ادارے وغیرہ میں کام شروع کرتے وقت ابتداء میں فریقین اپنی مرضی واختیار سے اٰجرت کی کوئی مقدار رکھ سکتے ہیں لیکن جب باہمی رضامندی اور اتفاق رائے سے فریقین کسی متعین اٰجرت پر اتفاق کر لیں تو بعد میں مفوضہ أمور کی انجام دہی پر ملازم طے شدہ اٰجرت کا حقدار ہوتا ہے اسے زائد اٰجرت کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوتا،البتہ کسی بھی ادارے یا فرد کا کسی شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ملازم کی کام کی نوعیت اور مفوضہ ذمہ داری سے کم اٰجرت متعین کرنا یا بغیر معاوضہ کے اضافی کام لینا شرعاً ،اخلاقاً، اور قانوناً غلط ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور شخص کو اگر حسب معاہدہ ماہانہ طے شدہ اٰجرت پوری دی جارہی ہو تو اس کے لیے ادارے کے ذمہ دار حضرات کو بتائے بغیر از خود ادارے کی آمدنی سے مزید رقم لینا جائز نہیں ،بلکہ یہ اٰمانت میں خیانت کی وجہ سے حرام ہوگی ،اس لیے ایسا کرنے سے اسے احتراز لازم ہے ،البتہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو لے کر انتظامیہ سے اپنی اجرت بڑھانے کی درخواست کرسکتا ہے ،جبکہ ادارے کے بڑے عہدوں پر فائز افراد کا ادارے کے مال میں کرپشن کرنا یا ملازمین کی حق تلفی کرتے ہوئے انھیں ہفتہ بھر کا باسی کھانا کھلانا درست طرز عمل نہیں ، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،اس لیے ان افراد پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائز طرز عمل کو چھوڑ کر ادارے کا مال اس کے مقرر کردہ مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام کریں ،وگرنہ مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہو سکے گی ،نیز مذکور آدمی اگر ان سربراہ افراد کے کرپشن کا مسلسل مشاہدہ کرتا آر ہا ہو ،اور وہ افراد اپنے اس طرز عمل کو چھوڑنے کو تیار بھی نہ ہو ،تو اسے چاہیے کہ وہ حکمت وبصیرت سے انتظامیہ کو اس پر مطلع کردے ،اور انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ ثبوت جرم کے بعد ان افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ،ان اسامیوں پر اہل اور دیانتدار افراد کو متعین کرنے کا اہتمام کرلے تاکہ لوگوں کا مال صحیح مصارف تک پہنچ سکے،وگرنہ وہ بھی اس جرم میں ان کے معاون شمار ہوکر گناہ گار ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالى:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾۔(البقرة:188)
و فی سنن الترمذی: عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إخوانكم جعلهم الله فتية تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه من طعامه، وليلبسه من لباسه، ولا يكلفه ما يغلبه، فإن كلفه ما يغلبه فليعنه،(باب ما جاء في الإحسان إلى الخدم،ج: 4،ص: 334،رقم الحدیث: 1945،مط: دار الرسالة العالمیه)
و فی الھندیه: إذ ‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق،اھ (الباب السابع في حد القذف والتعزير،فصل في التعزير،ج: 2،ص: 167،مط: دار الفکر)
و فی دررالحکام: (وإنما يستحق) أي لا يستحق الأجير المشترك (الأجر) إلا (بعمله كالصباغ ونحوه) ؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بين العوضين فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر وهو العمل لا يسلم للأجير العوض وهو الأجر،اھ(باب في الأجير،ج: 2،ص: 235،مط: دار احیاء الکتب العربیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96741کی تصدیق کریں
0     53
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مسلمان کا قادیانی کے پاس ملازمت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ملازمت 2
  • شراب کمپنی میں آئی ٹی کی ملازمت

    یونیکوڈ   اسکین   ملازمت 0
  • حرام کھانا فروخت کرنے والے غیرملکی ریسٹورنٹ کی ملازمت

    یونیکوڈ   اسکین   ملازمت 1
  • الکوحل بنانے والی فیکٹری میں ملازمت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   ملازمت 1
  • بینک اور جوبلی لائف انشورنس میں نوکری کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   ملازمت 0
  • سینمابنانے والی کمپنی میں ملازمت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   ملازمت 0
  • ریڈیو پاکستان میں سیلز اور مارکیٹنگ کی نوکری کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ملازمت 0
  • میدیسن کمپنی میں بحیثیت نمائندہ ملازمت کرنا

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • بغیر اطلاع کے ملازمت چھوڑنے پر تنخواہ کاٹنا

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • پولیس کے محکمہ میں نوکری کرنا

    یونیکوڈ   ملازمت 2
  • ے ایف سی (KFC)میں ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • حلال و حرام گوشت والی کمپنی میں ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • بینک الحبیب کی اسلامک برانچ میں کیشئیر کی ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • محکمۂ موسمیات میں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • نیسلے کمپنی میں ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • اسٹیٹ بینک کے اسٹاکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت

    یونیکوڈ   ملازمت 1
  • جی پی فنڈ میں نفع نہ لینے کے آپشن کے باوجود نفع لینا

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • کمپنی کو ملازم فراہم کرنے پر تنخواہ کے علاوہ مخصوص رقم لینا

    یونیکوڈ   ملازمت 1
  • والد کی جگہ ملازمت کرنے والے بیٹے کی تنخواہ میں دیگر بہن بھائی کا حصہ ہے؟

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • ملازم کا دکان کا سامان زیادہ قیمت میں فروخت کرکے اضافی رقم خود رکھنا

    یونیکوڈ   ملازمت 0
  • کال سینٹر کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 2
  • سودی بینک کے چوکیدار اور پیون کی ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   ملازمت 1
  • تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا

    یونیکوڈ   ملازمت 0
Related Topics متعلقه موضوعات