میرے بھائی نے گھر کی چھت پر گھر کے کسی فرد سے اجازت لیے بغیر کتے پال رکھے ہیں۔ ان کتوں کی دیکھ بھال کے لیے اس نے ایک ملازم بھی رکھا ہوا ہے، جو نشہ کرنے کا عادی ہے۔ میری غیر موجودگی میں ایک مرتبہ وہ ملازم میرے گھر کے اندر بھی داخل ہوگیا، جبکہ میری اہلیہ پہلی منزل پر اکیلی موجود تھیں، جس کی وجہ سے ہم سب بہت پریشان ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ بھائی کو سمجھانے اور درخواست کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ کسی بات کا اثر نہیں لیتا۔ ان حالات کی وجہ سے میری والدہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں، حتیٰ کہ انہیں آئی سی یو میں بھی داخل ہونا پڑا۔ اب میری گزارش ہے کہ شرعی رہنمائی فرمائیں: کیا میں ان کتوں کو زہر دے کر مار سکتا ہوں، کیونکہ میرے بھائی کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے گھر کے سب افراد شدید اذیت میں ہیں؟
واضح رہے کہ گھر، کھیتی وغیرہ کی حفاظت یا شکار کی ضرورت کی غرض کے علاوہ شوقیہ کتے پالنا شرعا ناجائز عمل ہے، حدیث مبارکہ میں اس پر سخت ممانعت وارد ہے، خصوصاً جبکہ کتوں کی وجہ سے اہل خانہ یا اہل محلہ کو تکلیف کا بھی سامنا ہو تو ایسی صورت میں اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے بھائی کے لیے مشترکہ مکان کی چھت پر شوقیہ کتے پالنا اور ان کی دیکھ بھال کے لیے نشہ کرنے والا ایسا ملازم رکھنا جس سے گھر کے دیگر افراد کی عزّت و آبرو کو خطرہ ہو ، چونکہ شرعاً جائز عمل نہیں، اس لیے اسے اپنے طرزِ عمل سے باز آنا لازم ہے، جبکہ سائل اور دیگر اہلِ خانہ کو چاہیے کہ از خود یا کسی معزّز شخص کے ذریعے اپنے بھائی کو افہام و تفہیم کے ذریعے احسن طریقے سے مذکورہ طرزِ عمل سے منع کریں تاکہ آپس میں لڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آئے، لیکن اگر سمجھانے کے باوجود وہ منع نہ ہو تو اس فعل کی روک تھام کے لیے برادری کی سطح پر بات اٹھائی جاسکتی ہے، تاہم آپ (سائل) کے لیے از خود کتوں کو زہر دے کر مارنا جائز نہیں ۔
لما صحيح البخاري: حدثنا ابن مقاتل، أخبرنا عبد الله، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، أنه سمع ابن عباس رضي الله عنهما، يقول: سمعت أبا طلحة، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب، ولا صورة تماثيل». (رقم الحديث: 3225، ط: دار طوق النجاة)
لما في الهندية: وفي أضحية النوازل رجل له كلاب لا يحتاج إليها ولجيرانه فيها ضرر فإن أمسكها في ملكه فليس لجيرانه منعه وإن أرسلها في السكة فلهم منعه فإن امتنع وإلا رفعوه إلى القاضي أو إلى صاحب الحسبة حتى يمنعه عن ذلك وكذلك من أمسك دجاجة أو جحشا أو عجولا في الرستاق فهو على هذين الوجهين كذا في المحيط.(360/5)
لما في الدر المختار: (يكره إمساك الحمامات) ولو في برجها (إن كان يضر بالناس) بنظر أو جلب والاحتياط أن يتصدق بها ثم يشتريها أو توهب له مجتبى (فإن كان يطيرها فوق السطح مطلعا على عورات المسلمين ويكسر زجاجات الناس برميه تلك الحمامات عزر ومنع أشد المنع فإن لم يمتنع بذلك ذبحها) أي الحمامات (المحتسب) وصرح في الوهبانية بوجوب التعزير وذبح الحمامات ولم يقيده بما مر ولعله اعتمد عادتهم. (6/401، دار الفکر)