کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ دو عورتیں ہیں، کنزہ اور وفرہ ،دونوں بہنیں ہیں، کنزہ نے اپنی بیٹی کی شادی وفرہ کے بیٹے سے کی، شادی سے بہت پہلے کنزہ نے بطورِ امانت کے ایک تولہ سونا وفرہ یعنی اپنی بہن کے پاس امانت رکھی، جو اس سے گم ہو گئی، لیکن گم ہونے کے بعد بھی اس نے غفلت اور بے پروائی سے اپنی بہن سے کہا کہ ابھی ہمارے بچوں کی یعنی آپکی بیٹی کا میرے بیٹے کے ساتھ شادی ہے ،لیکن شادی کے دوران مجھ سے اپنے سونے کے بارے میں کچھ مت کہنا ،ابھی مت مانگنا، پھر شادی بھی ہوگئی ،اور شادی کے چار پانچ سال ہو گئے، لیکن وفرہ اس سونے کا نام ہی نہیں لے رہی ،اور اس کی بہو یعنی کنزہ کی بیٹی بھی ڈر کے مارے کچھ نہیں کہہ رہی کہ کہیں رشتہ خراب نہ ہو جائے، اور ابھی تک وفرہ کی طرف سے بے پروائی ہی ہے، اور خود اس کے پاس اپنا سونا ہے اور بیچاری کنزہ اپنی زیور سے ہاتھ دھو بیٹھی، ایک دن ایسا ہوا کہ کنزہ اپنی بیٹی کے گھر آئی اور وفرہ کہیں چلی گئی، لیکن جاتے ہوئے اس سے اپنی سونے کی بالی گر گئی، اس وقت پتہ نہ چلا، بعد میں شام کے وقت ہی پتہ چلا، تو افسوس کے ساتھ کہنے لگی کہ شاید مجھ سے راستہ میں گر گیا ،اور اسی دن جس دن اس سے وہ بالی گر گئی، تو اس کی بہو نے یعنی کنزہ کی بیٹی نے اٹھایا اور ماں کے حوالہ کیا ،کہ یہ اپنے پاس رکھو، یہ لوگ تو ویسے بھی تمھیں تمھارا سونا نہیں دے رہے، لیکن کنزہ اللہ کا خوف ہونے کی وجہ سے لینے سے انکار کر رہی ہے، یاد رہے کہ وفرہ سے گری ہوئی بالی ایک تولہ سے بہت کم ہے ،اب سوال یہ ہے کہ کیا وفرہ کے علم میں لائے بغیر کنزہ وہ بالی لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ وفرہ وہ سونا ادا کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے ۔
واضح ہو كہ بطور امانت رکھی ہوئی چیز اگر امىن (جس کے پاس امانت رکھوائى جاتی ہے) کی تعدی یا کوتاہی وغفلت کى وجہ سے گم یا ضائع ہوجائے اور اس کی یہ غفلت و کوتاہی ثابت بھی ہو جائے تو اس سے ضمان کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، لىكن اگر اس کی جانب سے اس چیز کی حفاظت میں کوئی غفلت وكوتا ہی نہ پائی گئی ہو، تو اس سے ضمان کا مطالبہ کرنا جائز نہىں، لہذا صورت مسئولہ مىں سائلہ كا اپنى بہن سے فقط سونے گم ہو جانے كى وجہ سے اپنے سونے كا مطالبہ كرنا ىا اس كے بدلے اس كى سونے كى بالى ركھنا تو جائز نہىں، البتہ اگر تحقىق ىا سائلہ كى بہن كے اقرار سے ىہ ثابت ہوجائے كہ سائلہ كى بہن وفره نے جان بوجھ كر ىہ سونا غائب كردىا ہے ىا اس كى كوتاہى وغفلت كى وجہ سے وه سونا گم ہوچكا ہے، تو اىسى صورت مىں اس پر ضمان لازم ہو گا، اور اس ضمان كى وصولى كىلئے اس سے باقاعده اپنے حق كا مطالبہ كرنا بھى ضرورى ہوگا، اس مطالبہ كے بعد اگر وه اعتراف جرم كرنے كے باوجود بھى سائلہ كى حق كى ادائىگى مىں ٹال مٹول سے كام لىتى ہے ىا اس سے انكار كرتى ہے، تو اس كے بعد سائلہ اس كی جىولرى سے اپنا حق وصول کرنے میں حق بجانب ہوگى، اس كے بغىر سونے كى بالى ركھنا درست نہ ہوگا۔
کما في صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنه، «أن هند بنت عتبة قالت: يا رسول الله، إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم، فقال: خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف». [كتاب النفقات، باب خدمة الرجل في أهله، رقم الحديث (5364) ج:7 ص:65 ط: السلطانية]
وفي بدائع الصنائع: وأما بيان ما يغير حال المعقود عليه من الأمانة إلى الضمان، فأنواع: منها ترك الحفظ؛ لأنه بالعقد التزم حفظ الوديعة على وجه لو ترك حفظها حتى هلكت يضمن بدلها، وذلك بطريق الكفالة (إلى قوله) والمودع إذا هلكت الوديعة من غير صنعه لا ضمان عليه اهـ [كتاب الوديعة، فصل في بيان ما يغير حال الوديعة من الأمانة إلى الضمان، ج:6 ص:212 ط: دار الكتب العلمية)]
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: تعتبر الوديعة من عقود الأمانة، وهي أمانة في يد المودع (أو الوديع) فهو أمين غير ضامن لما يصيب الوديعة، من تلف جزئي أو كلي، إلا أن يحدث التلف بتعديه أو تقصيره أو إهماله. وهذا الحكم متفق عليه بين الفقهاء، ويشهد له ما روي عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي ﷺ قال: ليس على المستعير غير المغل ضمان، ولا على المستودع غير المغل ضمان والمغل هو: الخائن، في المغنم وغيره وما روي - أيضا - عن عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ قال: من أودع وديعة فلا ضمان عليه ومن أسباب الضمان في الوديعة التعدي أو التقصير أو الإهمال اهـ [حرف الضاد، ضمان، ثالثا: الضمان في عقود الأمانة: ضمان الوديعة، ج:28 ص:247 ط: دار السلاسل الكويت)]
وفي الدر المختار: وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق: عفاء على هذا الزمان فإنه * زمان عقوق لا زمان حقوق
وكل رفيق فيه غير مرافق * وكل صديق فيه غير صدوق اهـ [كتاب السرقة، ج:4 ص: 95 ط: سعيد)]
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضا لم يجز، لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولا تجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس اهـ [حرف الألف، استفاء، استيفاء حقوق العباد، ثانيا: استيفاء حقوق العباد المالية، استيفاء الحق من مال الغير بصفة عامة، ج:4 ص: 153 ط: دار السلاسل الكويت]