السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
میرا نام آصف ہے، اور میں پیشے کے اعتبار سے ایک Software Engineer ہوں۔
مجھے United Bank Limited (UBL) کے IT Department میں Software Developer کی ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے۔ میری ذمہ داریاں صرف سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور آئی ٹی سے متعلق تکنیکی امور تک محدود ہوں گی، اور میرا براہِ راست تعلق سودی لین دین یا بینکنگ آپریشنز سے نہیں ہوگا۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا ایک روایتی (Conventional) بینک کے IT Department میں Software Developer کی حیثیت سے ملازمت کرنا شرعاً جائز (حلال) ہے یا ناجائز (حرام)؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر فقہی دلائل کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں تاکہ میں اطمینان کے ساتھ درست فیصلہ کر سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں سائل کی ملازمت کا تعلق چونکہ براہِ راست سودی لین دین سے نہیں ،اس لئے سائل کے لئے مذکور ملازمت اختیار کرنے ،اور اس کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ،تاہم اگر سائل کو کوئی اور ذریعۂ آمدنی بآسانی میسر ہوسکتا ہو ،تو مذکور ملازمت سے اجتناب بہتر ہے ۔
کما فی الفقہ البیوع : أما اذا كانت الوظیفۃ لیس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربویۃ مثل و ظیفۃ الحارس أو سائق السيارة ، أو العامل على الهاتف أو الموظف المسؤل عن صيانة البناء ، أو المعدات أو الكهرباء ، أو المؤظف الذى يتمخض عمله فى الخدمات المصرفية المباحة ، مثل تحويل المبالغ و الصرف العاجل للعملات ، و إصدار الشيك المصرفي ، أو حفظ مستندات الشحن ، أو تحويلها من بلد إلى بلده ، فلایحرم قبولها ان لم یکن بنية الاعانة على العمليات المحرمة ، و ان کان الاجتناب عنھا اولیٰ ، لما ذكرنا من التفصيل في الاعانة و التسبب ، و فى كون مال البنك مختلطا بالحلال و الحرام و يجوز التعامل مع مثل هؤلاء الموظفين ، هبة أو بیعاً أو شراء اھ(2/ 1065)۔
اگر بینک منیجر کی تنخواہ حرام ہو تو بینک میں منیجر کی ذمہ داری کون پوری کرے؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0