۱۔ کیا بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟ میں نے بہت سے علماء سے سنا ہے کہ یہ شرک کرتے ہیں، اور ان کے پیچھے نماز جائز نہیں، اور میری آفس کے بالکل برابر میں انہی کی مسجد ہے، جمعہ کی نماز اور باقی نمازیں پڑھنے بھی وہاں جاتے ہیں، مہربانی فرما کر راہ نمائی فرمائیں۔
۲۔ ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
۱۔ اگر بریلوی امام مشرکانہ عقائد کا متحمل نہ ہو، بلکہ محض بدعات ورسومات کا مرتکب ہو ، تو اس دوسری قسم کے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، جس سے احتراز چاہیئے،مگر اکیلے نماز پڑھنے سے اسی کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ پڑھ لینا بہتر اور افضل ہے، جبکہ مشرکانہ عقائد ونظریات والے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہی نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ بغیر عذر کے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
ففی الدر المختار: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة الخ (1/ 562)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع الخ(1/ 562)
وفی البدائع: وذکر فی المنقی روایة عن أبی حنیفة رحمه اللہ أنه کان لا یری الصلاة خلف المبتدع، والصحیح أنه إن کان هوی یکفره لا تجوز وإن کان لا یکفره تجوز مع الکراهة الخ(۱/ ۱۵۷)
وفی البحر الرائق: وفی الفتاوی لو صلی خلف فاسق، أو مبتدع ینال فضل الجماعة لکن لا ینال خلف تقی ورع (إلی قوله) وکره امامة العبد الأعرابی والفاسق والمبتدع والأعمی وولد الزنا الخ(۱/ ۳۴۸)
وفی الدر المختار: (وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل الخ (1/ 641)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في الصلاة فتركها لذلك، (إلی قوله) ونص في الفتاوى العتابية على أنه لو فعله لعذر لا يكره الخ (1/ 641) والله اعلم
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0