میں نے ایک حدیث سنی ہے جس کا مفہوم یہ ہے، حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : ’’سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی‘‘ اس مفہوم کے سیاق میں ہم متبعین امام ابوحنیفہؒ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے؟ میں اب ۳۲ سال کا ہو چکا ہوں، میرے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں جو میں نے پڑھی ہے جس میں نمازِ جنازہ کے طریق کار میں سورہ فاتحہ شامل کی گئی ہو ۔ براہِ کرم میری راہ نمائی کریں یہ حدیث بخاری ومسلم کے حوالہ سے روایت کی گئی ہے۔
واضح ہو کہ نمازِ جنازہ کا مقصدمیت کے لیے دعائے مغفرت کرنا ہے، اسی لیے سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ’’جب تم کسی کا جنازہ پڑھو تو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرو “ ۔ چنانچہ نمازِ جنازہ میں آدابِ دعا کے مطابق شروع میں حق تعالیٰ شانہ کی حمد و ثنا کی جاتی ہے ،اگر کوئی شخص بطور ثناء کے فاتحہ پڑھے تو یہ شرعاً ممنوع بھی نہیں، مگر لازم بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد آقائے دوجہاں ﷺ پر درود پڑھا جاتا ہے ، اس کے بعد میت کے لیے مغفرت کی دُعا کی جاتی ہے،نمازِ جنازہ میں سورتِ فاتحہ کی قراءت کسی صحیح ، صریح، مرفوع ، غیر معارض حدیث پاک سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے برعکس صحابہ وتابعین سے بہت سے ایسے آثار موجود ہیں جن میں نمازِ جنازہ میں قراءت نہ کرنے کا ذکر ہے۔
جہاں تک ” لاصلاۃ الا بفاتحۃالکتاب‘‘ والی حدیث کا تعلق ہے تو یہ رکوع سجدے والی نمازوں کے بارے میں ہے ( اور اس میں بھی منفرداورامام سے متعلق ہے نہ کہ مقتدی کے) جیسا کہ ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوالعالیہ سے نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا تو یہی خیال ہے کہ سورہ فاتحہ صرف رکوع و سجود والی نماز میں پڑھی جاتی ہے۔
ففي سنن أبي داود: عن أبي هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول: «إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء» (3/ 210)
وفي مصنف ابن أبي شيبة: عن نافع، أن ابن عمر كان «لا يقرأ في الصلاة على الميت» (2/ 492)
وفیه أیضا: عن أبي المنهال، قال: سألت أبا العالية عن القراءة في الصلاة على الجنازة بفاتحة الكتاب فقال: «ما كنت أحسب أن فاتحة الكتاب تقرأ إلا في صلاة فيها ركوع وسجود» (2/ 493)