نمازِ مغرب کی پہلی رکعت میں سورتِ قریش اور دوسری میں سورت کوثر تلاوت کرتا ہوں، یہ مسئلہ سید زوّار حسین شاہ صاحب کی کتاب عمدۃ الفقہ حصہ دوم صفحہ نمبر ۱۱۸ فصل ’’قرأت کا بیان‘‘ میں تفصیل سے موجود ہے۔ اس کتاب پر حضرت بنوریؒ کی تصدیق بھی موجود ہے، چند نمازی اس صورت کے مکروہ ہونے کا فتویٰ لے آئے ہیں، جیسا کہ کتب میں موجود ہے، اپنی تحقیق سے نوازیں۔
دو سورتوں کے درمیان چھوٹی سورت کے ذریعے فصل کرنا مکروہ ہے، لیکن ایسی سورت کے ذریعہ فصل کرنا کہ جس پڑھنے سے دوسری رکعت پہلی کے مقابلے میں لمبی ہو جائے مکروہ نہیں، اس لیے سورہ ماعون کو چھوڑ کر سورہ کوثر پڑھنا بلاکراہت درست ہے، کیونکہ سورہ ماعون، سورہ قریش سے قدرے طویل ہے، لہٰذا جو لوگ اس طرح نماز کو مکروہ کہہ کر لوگوں میں بلاوجہ شبہ اور اختلاف وانتشار پیدا کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے اس طرزِ عمل سے اجتناب کریں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ويكره الفصل بسورة قصيرة) أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالة كثيرة فلا يكره اھ (1/ 546) واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0