میں نے اکنامکس میں ماسٹر کیا ہے ،میرے علم کے مطابق مروجہ کنونشنل بینکوں میں ملازمت کرنا جائز نہیں ، اس میں سود شامل ہوتا ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ یہ حکم اُن بینکوں میں بھی لاگو ہوتاہے جو حکومت کی نگرانی میں ہوتے ہیں مثلاً اسٹیٹ بینک پاکستان اور نیشنل بینک ، کیونکہ یہ صرف نفع نہیں کماتے ہیں بلکہ معیشت کو بھی منظم کرتے ہیں۔ کیا میں ان بینکوں میں ملازمت کر سکتا ہوں۔
اسٹیٹ بینک ، نیشنل بینک بھی دیگر عام بینکوں کی طرح سودی لین دین کرتے ہیں، اس لیے ان بینکوں کی ایسی ملازمت جو براہ راست سودی لین سے متعلق ہو وہ بھی ناجائز ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ میزان بینک اور بینک اسلامی جو اسلامی بینکاری پیش کر رہے ہیں، اگر ان میں ملازمت مل جائے تو سائل اسے اختیار کر سکتا ہے اور اس ملازمت پر ملنے والی تنخواہ بھی اس کے لیے جائز اور حلال ہوگی۔
کما في تكملة فتح الملهم: ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين الأول اعانة على المعاصية والثانى اخذ الأجرة من المال الحرام اھ (۱/619)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0