کیا فرماتے ہیں مفیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
میرا ایک کاروبار ہے ، جس کی نوعیت یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو بینک سے لون لینا ہو ، یا گھر وغیرہ کی خریداری کرنی ہو ، تو میں اس بینک کے کلائنٹ کو بینک سے لون وغیرہ لینے کے طریقہ کار کی راہ نمائی کر تا ہوں ، اور اس کے لیے جو مطلوبہ دستاویزا ت ہیں ، اس کو تیاری کے تمام مراحل سے گزار کراسے حوالہ کرتا ہوں ، جس کی بنیاد پر اس کلائنٹ کو بینک سے اس کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے ۔ جس کی فیس میں اس سے چارج کرتا ہوں۔ کیا میرا یہ کام جائز ہے ؟ اور اس طرح کرنے سے میری کمائی حلال ہوگی؟
سائل کے کاروبار کی نوعیت اگر یہ ہوکہ سائل کسی بھی کنوینشنل بینک سے لون وغیرہ لینے والے کلائنٹ کے لیے فقط رہبری کا فریضہ سر ا نجام دیتا ہو، اس طور پر کہ وہ بینک کے طریقہ کار سے ناواقف شخص کی خاطر بینک میں مذکور معاملہ کے لیے مطلوبہ دستاویز ات وغیرہ تیار کرکے کلائنٹ کے حوالہ کردیتا ہو ، جس کے بعد کلائنٹ از خود وہ کا غذات و دستاویزات بینک میں لے جاکر اس سے مقصود معاملہ کے متعلق معاہدہ کرتا ہو،اور سائل اس معاہدہ میں براہ راست شریک نہ ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی کمائی حرام نہ ہوگی ، تاہم اس سے بھی اگر اجتناب کیا جائے ، تو زیادہ بہتر و افضل ہے ۔
البتہ اگر سائل کلا ئنٹ کے سا تھ مل کر مذکور معاملہ کے لیے مطلوبہ دستاویزات کی تیاری ، سودی معاہدہ کو حتمی شکل دینے تک کے تمام مراحل میں شریک رہتا ہو ، تو سائل کا یہ عمل براہ راست سودی لین دین میں شریک ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز و حرام ہوگا، اور اس صورت میں سائل کو ملنے والی فیس بھی حلال نہ ہوگی ، اس لئے ایسے کاروبار سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی صحیح مسلم : حدثنا عثمان بن أبي شيبة، وإسحاق بن إبراهيم ، (واللفظ لعثمان)، قال إسحاق: أخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن مغيرة قال: سأل شباك إبراهيم ، فحدثنا عن علقمة ، عن عبد الله قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله. قال: قلت: وكاتبه وشاهديه، قال: إنما نحدث بما سمعنا »( باب لعن آكل الربا ومؤكله 5/50 ط: دار الطباعة العامرة – تركيا)
وفی المبسوط للسرخسی: فأما التخريج هنا على الأصل المتفق عليه وهو أن النهي متى كان لمعنى في غير المنهى عنه فإنه لا يعدم المشروع كالنهي عن البيع وقت النداء وإن كان المنهي عنه بعدمه كالنهي عن بيع المضامين والملاقيح اھ (باب البیوع اذا کان فیھا شرط 13/23 ط: مطبعة السعادة – مصر)
وفی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: وفي «فتاوى أهل سمرقند» : إذا استأجر رجلاً ينحت له طنبوراً أو بربطا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية اھ ( کتاب الاجارات باب الخامس عشر 7/481 ط: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان )
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0