فجر کی اذان وقت داخل ہونے کے پانچ یا دس منٹ بعد دے سکتے ہے یا وقت داخل ہونے کے ساتھ ہی دینی چاہیے؟
فجر کی اذان وقت داخل ہونے کے ساتھ ہی فوراً یا کچھ دیر بعد کہی جا سکتی ہے، البتہ نقشوں میں دیئے گئے وقت سے ایک دو منٹ تاخیر سے اذان کہنا بہتر اور احتیاط پر مبنی امر ہے، اس لیے نقشوں میں دیئے گئے وقت سے ایک یا دو منٹ بعد جب بھی اذان کہی جائے درست ہے۔
ففی الدر المختار: (قوله: حتى يبرد به) (إلی قوله) وحكم الأذان كالصلاة تعجيلا وتأخيرا. (إلی قوله) قال أبو حنيفة يؤذن للفجر بعد طلوعه اھ (1/ 384) واللہ اعلم