کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ :
(۱) کیا ناپاکی کی حالت میں عورت قبرستان سے گزرسکتی ہے ، جبکہ قبرستان میں راستہ بنا ہوا ہو ؟
(۲) میں نے اخبارِ جہاں میں دینی مسائل میں پڑھا ہے کہ چھ حالتوں میں اذان کا جواب نہیں دینا چاہۓ ، ساتھ ہی یہ لکھا ہوا تھا یعنی اذان کے کلمات نہیں دہرانے چاہئیں ، ان میں سے تین حالتیں درجِ ذیل ہیں
(۱)ناپاکی کی حالت میں (۲) کھانا کھانے کے دوران (۳) جب عالم پڑھ رہا ہو یا پڑھا رہا ہو ، کیا ایسا ہی اذان کے جوابات دینا اور اذان کے کلمات میں فرق ہے؟ جبکہ ہم نے کتابِ نماز میں پڑھا ہے کہ اذان کے وقت اگر کوئی قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہو ، اسے چاہئے کہ قرآن پاک بند کرکے اذان سنے ، کیا عالم ہی اذان کے کلمات نہ دہرائے یا عام آدمی یا عورت بھی ؟ جبکہ وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کررہی ہو ، کیا ناپاکی کی حالت میں عورت اذان کے بعد جو دعا پڑھتے ہیں وہ پڑھ سکتی ہے؟
(۳) کیا قرآن مجید پڑھ کر کر بخشنے سے ثواب تقسیم ہوجاتا ہے؟ (مُردوں کو اور زندہ لوگوں کو)۔
(۴) کیا لڑکی کا نکاح اپنی برادری سے باہر ہوسکتا ہے؟ جبکہ لڑکی کا باپ راضی نہ ہو ، اور باقی بھائی ، بہنوں کو کوئی اعتراض نہ ہو ، اپنی برادری (آرائیں) میں رشتہ نہ ملے تو کیا نکاح ہی نہیں ہوسکتا ؟ کیا اس حالت میں باپ کی فرمانبرداری لازمی ہے؟
(۱) گزرسکتی ہے اس میں کچھ حرج نہیں۔
(۲) جن حالتوں میں اذان کا جواب نہ دینے کے بارے میں آپ نے سنا ہے یہ بات درست ہے ، البتہ قرآن پڑھنے والے کو چاہئے کہ تلاوت بند کرکے پہلے آذان کا جواب دے اور پھر تلاوت پوری کرے ، اس کے بعد واضح ہو کہ آذان کے کلمات دہرانے اور جواب دینے میں کوئی فرق نہیں ، سوائے حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے ، کہ ان دونوں کلموں کے جواب میں لا حول و لا قوۃ الا باللہ کہنا چاہئے ، اسی طرح خواتین اپنے ماہواری کے ایام میں اذان کے بعد دعا پڑھ سکتی ہیں۔
(۳) دونوں کو قرآن کریم کی تلاوت کا ثواب ضرور پہنچتا ہے مگر قرآن خوانی کی مروّجہ بدعات سے احتراز بھی ضروری ہے۔
(۴) عاقلہ بالغہ لڑکی اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے البتہ غیر برادری اگر خاندانی مرتبہ و مقام کے لحاظ سے کم درجے کا ہو تو اس میں کیا ہوا نکاح کفؤ نہ ہونے کی وجہ سے باپ اگر فسخ (ختم) کرنا چاہے تو اسے شرعاً اختیار ہے ، لہٰذا اگر کسی دوسری برادری میں نکاح کرنا ہو تو پہلے باپ کو راضی کریں۔