السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! میں نے آپ کے فتاویٰ کی لسٹ میں سورۃ مائدۃ کی آیت مبارکہ کا حوالہ پڑھا ہے ،جس میں اللہ پاک فرماتے ہیں (مفہوم ترجمہ)آج ہم نے آپﷺ پر اپنا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تمام کردی،اور اسلام کو آپﷺ کا مذہب چن لیا ،اب اگر کوئی اضافہ ہے تو وہ بدعت ہے، براہ مہربانی یہ بتائیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اذان میں جو''الصلوٰۃ خیر من النوم'' کا اضافہ کیا تھا، کیا یہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے؟براہ مہربانی رہنمائی کریں۔
اولاً تو یہ جاننا چاہیے کہ صبح کی ذان میں ''الصلوٰۃ خیر من النوم "کا اضافہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نہیں، بلکہ آپ ﷺکے زمانہ حیات میں یہ کلمہ اذان میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ استعما ل کرتے تھے اور آپﷺ نے ہی اس کو صبح کی اذان میں شامل کروایا تھا ،جیسا کہ ذیل کی احادیث سے معلوم ہوتاہے ۔
ثانیاً:اگر یہ اضافہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے کا ہو، تب بھی بحکم نبویﷺ ’’علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین الخ‘‘ یہ سنت ہی ہے ، اس کو بدعت قرار دینا درست نہیں ،اس سے احتراز لازم ہے ۔
فی !علاء السنن: عن عائشة قالت: جاء بلال ﺇلی النبی– صلی اللہ علیه وسلم - یؤذنه بصلاۃ الصبح فوجدہ نائماً، فقال: ’’الصلاة خیر من النوم‘‘ قاقرت فی آذان الصبح، فقال المؤلف عثمانیؒ تحت ھذا الحدیث: ومارواہ مالك فی المؤطا بلاغاً: ﺃن الموذن جاء ﺇلی عمر بن الخطاب یؤذنه بصلاة الصبح فوجدہ نائما فقال: الصلاة خیر من النوم " فأمرہ عمر أن ھذا التثویب فی الاذان ابتدأہ عمر رضی اللہ عنه الخ (ج 2ص99) واللہ اعلم!