جب اذان یا تکبیر ختم ہوتی ہے ’’لا الٰہ إلا اللہ‘‘ کے بعد کافی آدمی محمد رسول اللہ کہتے ہیں، کیا ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے ساتھ ﷺ پڑھنا لازمی ہے یا نہیں؟
اذان کے بعد اس کی دعا کا پڑھنا مستحب ہے اور مذکور طرزِ عمل جن سے اذان و تکبیر میں زیادتی مفہوم ہوتی ہے، جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ جب محمد رسول اللہ پڑھا یا سنا جائے تو اس کے بعد کم ازکم ایک مرتبہ درود شریف جیسے ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پڑھنا لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: لكن صحح في الكافي وجوب الصلاة مرة في كل مجلس كسجود التلاوة حيث قال في باب التلاوة: و ہو كمن سمع اسمه - عليه الصلاة والسلام - مرارا لم تلزمه الصلاة إلا مرة في الصحيح اھ(1/ 516)۔