مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ آج کل جہاد جائز ہے ؟
جی ہاں! بلا شبہ جائز بلکہ فرض ہے، اور ’’الجهاد ماض إلى يوم القيامة‘‘ جیسی احادیثِ صحیحہ اور نصوصِ قرآنیہ سے اس فریضہ کا قیامت تک جاری رہنا بخوبی ثابت ہے،البتہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے بھی ایسے ہی کچھ آداب و شرائط ہیں، جیسا کہ دیگر فرائض کی ادائیگی کے لئے ہیں، اور اس سلسلے میں کتبِ مذہب سے باب الجھاد اور " واعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم» جیسی آیاتِ کریمہ کی معتمد تفاسیر کا مطالعہ کر کے اس کے تفصیلی آداب و شرائط اور احکام سمجھے جا سکتے ہیں ۔
کمافي تفسير ابن كثير: ثم أمر تعالى، بإعداد آلات الحرب لمقاتلتهم حسب الطاقة والإمكان والاستطاعة، فقال: وأعدوا لهم ما استطعتم أي مهما أمكنكم من قوة ومن رباط الخيل. (4/ 71)۔
وفى الدر المختار: وشرط لوجوبه: القدرة على السلاح لا أمن الطريق اھ (4/ 127)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وشرط لوجوبه القدرة على السلاح) أي وعلى القتال وملك الزاد والراحلة كما في قاضي خان وغيره قهستاني وقدمنا عنه اشتراط العلم أيضا (قوله لا أمن الطريق) أي من قطاع أو محاربين، فيخرجون إلى النفير، ويقاتلون بطريقهم أيضا حيث أمكن وإلا سقط الوجوب؛ لأن الطاعة بحسب الطاقة تأمل. (4/ 127)۔