جنازة کی نماز قبرستان میں پڑھنا کیسا ہے؟ اگر نماز کے لیے جگہ نہ ہو ،تومسجد یا قبر ستان میں جنازہ کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اگر قبرستان میں ایک جگہ بنا دی جائے، تو اُس جگہ جنازہ کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟
مسجد کے اندر اس طور نماز جنازہ پڑھنا کہ میت اور نمازی سبب مسجد ہی میں ہوں مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر میت اور کچھ نمازی مسجد سے باہر ہوں اور بقیہ نمازی مسجد میں ہوں، تو یہ مکروہ بھی نہیں، الگ سے مسجد اور قبرستان میں بلا عذر نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے، البتہ قبرستان کی جگہ میں (جنازہ گاہ) بنی ہوئی ہو ،تو اس میں نماز پڑھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
ففي سنن أبي داود: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى على جنازة في المسجد، فلا شيء عليه» اھ (3/ 207)
وفي الفتاوى الهندية: وصلاة الجنازة في المسجد الذي تقام فيه الجماعة مكروهة (إلی قوله) ولا تكره بعذر المطر ونحوه، هكذا في الكاف اھ (1/ 165)
وفي حاشية ابن عابدين: بقي في المكروهات أشياء (إلی قوله) والصلاة في مظان النجاسة كمقبرة وحمام؛ (إلی قوله) أو كان في المقبرة موضع أعد للصلاة ولا قبر ولا نجاسة فلا بأس كما في الخانية. اهـ (1/ 654) والله اعلم