ہمارے یہاں بچپن میں اللہ کے نام پر نذو نیاز مانا جاتا تھا اور اسکو پڑوسیوں،رشتہ داروں اور غریبوں کے درمیان تقسیم کیاجاتا تھا ، مگر ان دنوں میں نے سنا ہے کہ یہ بدعت ہے اور اسلام میں اسکی اجازت نہیں ،کیایہ بات درست ہے کہ ان دنوں بعض لوگ غیر اللہ کے نام پر بھی نیازات دیتے ہیں اور قرآن میں اس کی اجازت نہیں ، میں نے پڑھاہے کہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ اللہ تعالیٰ کے نام پر نیازات دیتے تھے ،براہ مہربانی اس پر تسلی بخش جواب دیں۔
جو نیاز یا نذر وغیرہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی غیر کی خوشنودی کے لیے کی جائے، یہ شرک عملی ہے، جو کسی صورت جائز نہیں، خواہ پیدائش کے وقت کی جائے یا بعد میں ،اور وہ عمل جو عبادت سمجھ کر کیا جائے اور اس پر ثواب کی بھی امید ہو ،مگر شریعت مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہونے کیساتھ ساتھ وہ شرعی ضابطوں سے بھی متصادم ہو تا ہو، یہ بدعت کہلاتاہے ۔ یہ بھی ناجائز اور واجب الترک ہے ۔جبکہ وہ عمل جس کا شرعاً ثبوت ہونے کیساتھ ساتھ اس پر اجر و ثواب بھی بیان کیا گیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرکے اس کا اجر وثواب کسی بھی زندہ یامردہ کو بخش دیا جائے تو یہ بلاشبہ جائز ہے اور ایصالِ ثواب کیلیے بہترین عمل ہے ۔
ففی البحر الرائق: وأما النذر الذي ينذره أكثر العوام على ما هو مشاهد فهذا النذر باطل بالإجماع لوجوه منها أنه نذر مخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز؛ لأنه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك ومنها إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر الخ- (2 / 320)
و فی الدر المختار : واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك،- (2 / 439) واللہ أعلم بالصواب!