کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون جسے اپنے پہلے خاوند سے طلاق ہو گئی ہے اور اس سے اس خاتون کا ایک بیٹا بھی ہے۔ اور اب عدت کے بعد اس نے ایک دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ہے، مگر اس پہلے خاوند سے بیٹے کو بھی اسی دوسرے خاوند کی طرف منسوب کرتی ہے۔ حتی کہ کاغذات میں بھی بجائے اس بیٹے کے اصلی باپ کے اپنے دوسرے شوہر کا نام درج کرواتی ہے ۔ کیا مذکورہ خاتون کا یہ عمل شریعت محمدیہ کی روشنی میں جائز ہے یا نہیں ۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل فرما کر ممنون فرمائیے ۔
صورت مسئولہ میں مذکور بچے کو اُس کے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرنا اور اس دوسرے شخص کو مذکور بچے کا باپ ثابت کرنا اور تمام کاغذات میں بھی اس کے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لکھوانا سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس سے احتراز واجب ہے۔ لہذا مذکورہ خاتون پر لازم ہے کہ وہ اس بچے کو اپنے اصلی والد کی طرف منسوب کرے اور سرکاری و غیر سرکاری تمام کاغذات میں بھی اس کے اصلی والد کا ہی نام درج کروائے ۔
قَالَ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى { ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ } [الأحزاب: 5]