میرے والد صاحب کا بینک میں سیونگ اکاونٹ ہے اور میں یہ بات جانتا ہوں کہ بینک سیونگ اکاونٹ میں سود کا اضافہ کرتا ہے سیونگ اکاونٹ کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے۔ اگر یہ منع ہے تو ہم کس قسم کا اکاونٹ کھول سکتے ہیں جو سود سے پاک ہو؟
اگر سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا مجبوری ہو تو بجائے دوسرے بینکوں کے’’ میزان ‘‘، ’’البرکہ‘‘ یا اسلامی بینک‘‘میں کھلوا لینا چاہیے کہ ان بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والا نفع شرعا سود کے حکم میں نہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی بجائے دوسرے بینکوں کے اگر انہی مذکورہ بینکوں میں کھلوایا جائے تو بہتر ہے۔
قال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في أحكام القرآن للجصاص: قوله عز وجل وأحل الله البيع عموم في إباحة سائر البياعات لأن لفظ البيع موضوع لمعنى معقول في اللغة وهو تمليك المال بمال بإيجاب وقبول عن تراض منهما وهذا هو حقيقة البيع في مفهوم اللسان اھ (2/ 189)
و في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166) واللہ اعلم بالصواب
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0