میرے سسر کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، براہِ کرم میری درج ذیل سوالات کا جواب مرحمت فرمائیں:
۱۔ میرے سسر صاحب حال ہی میں پیٹ کے کینسر سے انتقال فرما گئے ہیں کیا پیٹ کی بیماری سے انتقال کرنے والا مسلمان شہید کا درجہ رکھتا ہے؟
۲-ساس صاحبہ اُس وقت سن اِیاس (۶۰ سال سے زیادہ عمر) میں ہیں، اُن کی عدت کی مدت کیا ہوگی؟
۳۔ ساس اور سسر کرائے کے پلاٹ میں مقیم تھے، جس کا کرایہ اُن کا چھوٹا بیٹا , جو اُسی بلڈنگ میں اُن کے ٹھیک نیچے والے فلیٹ میں رہتا ہے، ادا کرتا ہے، سسر صاحب کے انتقال کے بعد مالکِ مکان نے اُس فلیٹ (جس میں ساس اور سسر مقیم تھے) کو مزید کرایہ پر دینے سے انکار کر دیا ہے، اس صورتِ حال میں ساس صاحبہ اپنی عدت کہاں گزاریں؟ یہ یاد رہے کہ سسر صاحب کا انتقال ہسپتال میں ہوا تھا، اور اُن کے انتقال کی خبر ساس صاحبہ کو اس فلیٹ میں دی گئی۔
۴۔ چھوٹا بیٹا غصّہ کا تیز ہے، مگر ماں باپ کا بہت خیال رکھتا ہے، سسر صاحب کی دورانِ بیماری اُس نے بہت زیادہ خدمت کی، ساس صاحبہ محض چھوٹے بیٹے کے غصے کی وجہ سے عدت اپنے بڑے بیٹے کے ہاں گزارنے کے لئے چلی گئی ہیں، جو کہ اُن کے فلیٹ سے تقریبا ۱۰ کلومیٹر دور رہتا ہے، کیا ساس صاحبہ کا یہ عمل درست ہے؟ چھوٹا بیٹا قسمیں کھاتا ہے کہ آئندہ ماہ کو کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں دےگا، مگر ساس صاحبہ اُس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں، شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
۵۔ کیا دورانِ عدت سفید کپڑے پہننا لازمی ہے؟ کچھ عورتوں نے ساس صاحبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دورانِ عدت صرف سفید کپڑے پہنے۔
۱۔ پیٹ کی بیماری سے انتقال کرنے والا شہیدِ اخروی کا درجہ رکھتا ہے، جبکہ دنیاوی معاملات کفن دفن وغیرہ میں اس کےساتھ عام اموات جیسا برتاؤ کیا جائے گا۔
۲۔ مذکور خاتون کی عدت بھی عام عورتوں کی طرح چار ماہ دس دن ہوگی۔
۳۔ معتدہ کے لئے اصل حکم تو یہ ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت پوری کرے جس میں بوقتِ وفات اس کی اور اس کے شوہر کی رہائش تھی، تاہم جب مالکِ مکان مزید کرایہ پر دینے کے لئے تیار نہیں تو وہ اپنے بیٹوں میں سے جس کے ہاں راحت محسوس کرے ، عدت گزار سکتی ہے، بیٹوں کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
۴۔معتدہ کے لئے سفید کپڑے پہننا ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی قسم کے کپڑے بشرطیکہ کہ پرانے ہوں اور ان کے پہننے سے زینت مقصود نہ ہو ، پہننا جائز ہے ۔
فی مشكاة المصابيح : و عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : (إلی قوله) و من مات في الطاعون فهو شهيد و من مات في البطن فهو شهيد ". رواه مسلم اھ (2/ 1122)-
في مرقاة المفاتيح : «و من مات في البطن فهو شهيد» ) : في شرح مسلم : المبطون صاحب داء البطن و هو الإسهال . قال القاضي عياض رحمه الله : و قيل هو الذي به الاستسقاء و انتفاخ البطن ، و قيل: الذي يموت بداء بطنه مطلقا اھ (6/ 2469)-
في الهداية : و عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر و عشرا" لقوله تعالى: {وَ يَذَرُونَ أَزْوَاجاً يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ عَشْراً} اھ (2/ 275)
و في الفتاوى الهندية : على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة و الموت كذا في الكافي . (إلی قوله) إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة و لا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل اھ (1/ 535)-
و في الفتاوى الهندية : و لبس المطيب و المعصفر و الثوب الأحمر (إلی قوله) قال شمس الأئمة المراد من الثياب المذكورة ما كان جديدا منها تقع به الزينة أما إذا كان خلقا لا تقع به الزينة فلا بأس به كذا في المحيط (1/ 533)-