کن کن اموات میں شہادت کا رتبہ ہے ؟
حقیقی شہید (جس پر دنیا میں بھی شہید کے احکام جاری ہوں گے) وہ ہے جو میدان جہاد میں مارا جائے یا کسی مسلمان کے ہاتھوں ظلماً قتل ہو، جبکہ اس کے علاوہ طاعون (وبا) سے مرنے والا، پانی میں ڈوب کر آگ میں جل کریا کسی ملبہ کے نیچے دب کر مرنے والا وغیرہ بھی حکماً شہید ہوگا، تاہم سائل ان کے علاوہ کسی خاص نوع کی موت کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہو تو اس کی صراحت کر کے سوال دوبارہ بھیج دے، تو ان شاء اللہ اس کے بارے میں حکم شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔
ففی موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيباني: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله: المطعون شهيد، والغريق شهيد، وصاحب ذات الجنب شهيد، وصاحب الحريق شهيد، والذي يموت تحت الهدم شهيد، والمرأة تموت بجمع شهيد، والمبطون شهيد " (ص: 108)
وفي الهداية: " الشهيد من قتله المشركون أو وجد في المعركة وبه أثر أو قتله المسلمون ظلما (إلی قوله) ومن قتله أهل الحرب أو أهل البغي أو قطاع الطريق فبأي شيء قتلوه لم يغسل اھ (1/ 92)