مفتی صاحب! ہمارے ہاں ایک واقعہ ہو گیا موٹر سائیکل پر دو سوار آئے اور انہوں نے ایک آدمی کو اس کے گھر کے سامنے شہر کے اندر قتل کر دیا ، جب اس کے غسل کی تیاری ہوئی تو بعض علماء نے کہا اس کو غسل نہیں دیا جاتا ہے، اس لئے کہ یہ شہید حقیقی کے حکم میں ہیں، اس کے قاتل نامعلوم ہیں، اس کا دیت بیت المال واجب ہے، جب کہ کچھ اور علماء نے کہا اس کو غسل دیا جاتا ہے، اس کے قاتل نا معلوم ہوں یا نہ، مگر اس کا دیت بیت المال پر نہیں آتا، لیکن بغیر غسل دیئے اسے دفن کر دیا ، اب دریافت طلب مسئلہ یہ کہ ان میں کون صحیح ہے؟ مہربانی فرما کر مدلل جواب دیا جائے؟
ایسا شخص شہید حقیقی کے حکم میں ہے اور اس پر شہید حقیقی کے دنیوی احکام بھی جاری ہونگے۔
ففي فتح القدير للكمال ابن الهمام: (قوله الشهيد إلخ) هذا تعريف للشهيد الملزوم للحكم المذكور: أعني عدم تغسيله ونزع ثيابه لا لمطلقه (إلی قوله) ولو أريد تصويره على رأي أبي حنيفة قيل كل مسلم مكلف لا غسل عليه قتل ظلما من أهل الحرب أو البغي أو قطاع الطريق بأي آلة كانت وبجارح من غيرهم ولم تجب بقتله دية بنفس القتل ولم يرتث اھ (2/ 142)
وفي العناية شرح الهداية: (الشهيد من قتله المشركون، أو وجد في المعركة وبه أثر، أو قتله المسلمون ظلما ولم يجب بقتله دية فيكفن ويصلى عليه ولا يغسل) لأنه في معنى شهداء أحد. (إلی قوله) أما التكفين فهو سنة في موتى بني آدم، فإن كان عليه ثياب لم تنزع عنه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «زملوهم بكلومهم ودمائهم» وفي رواية " بثيابهم " وينزع الفرو والحشو والقلنسوة والخف والسلاح لأنها ليست من جنس الكفن، ويزيدون وينقصون إتماما للكفن على ما ذكر. وأما عدم الغسل فلأنه في معنى شهداء أحد اھ (2/ 142)