کیا میں اپنی غلام لڑکی (کنیز) کے ساتھ سیکس (مباشرت) کرسکتا ہوں؟ لڑکی میری کنیز ہے، میں اس کو خریدا ہوا ہے۔
واضح ہوکہ باندیوں کو بغیر نکاح کے اپنے تصرف میں رکھنا اور ان سے مباشرت کرنا اگرچہ جائز اور درست ہے، مگر موجودہ دور میں چونکہ باندیوں کا وجود نہیں، اسلئے سائل جس لڑکی کو کنیز اور باندی سمجھ رہا ہے،اگر اس کی مکمل وضاحت لکھ کر بھیج دے کہ یہ اسے کیسے حاصل ہوئی ؟ کونسے قوم وقبیلہ سے منسلک ہے؟ اور کونسے ملک کی باشندہ ہے؟ اور ویزہ لیکر آئی ہے اور اسکا ویزہ کونسا ہے، اور اس کے پاس بصورت ملازمہ آئی ہے یا کیا؟ چنانچہ اس امور کی واقع وضاحت لکھ کر اس سوال کو دوبارہ ایمیل کردیں، اس کے بعد آپ کے سوال کا حکم شرعی بھی بیان کردیا جائے گا۔
کما قال اللہ تعالٰی: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6)سورۃ المؤمنون)۔
وفی رد المحتار: فإنه يتبين أن الوطء حلال تصريح بمفهوم ما هنا وفيه تأمل لأن ثبوت ملكه لها قبيل الوطء عندنا الخ (ج3 صـ180 کتاب النکاح ط: دار الفکر)۔