کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص نے ایک عورت کے ساتھ رات گزاری اور فرج کے علاوہ پیچھے کے راستے سے دخول کیا اور انزال ہوا تو اس شخص پر زنا کی حد جاری ہوگی یا نہیں؟ نیز اس عورت کی بہن، بیٹی یا ماں سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں اور اسی طرح اگر کوئی شخص کسی لڑکے کے ساتھ لواطت کرتا ہے تو اس کے بعد اُس لڑکے کی بہن یا ماں سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مسئلہ کو تفصیل سے بیان فرمائیں۔
وطی فی الدبر مرد کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ بہرحال ناجائز اور حرام ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس فعل قبیح پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ایسے شخص پر بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہے اور یہ کہ آئندہ کیلئے ایسے ناجائز اُمور سے مکمل اجتناب بھی کریں۔
تاہم اس فعل قبیح سے جب انزال بھی ہوگیا تو اس سے نہ تو حد واجب ہوتی ہے اور نہ ہی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے البتہ قاضی کے سامنے اس جُرم کے ثابت ہونے پر اُسے سخت سے سخت سزا تعزیراً جاری کرنے کا اختیار ہے۔
وفی المشكوٰة: عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ لا ینظر الله إلی رجل أتی رجلًا أو أمرأةً فی الدُّبر رواه الترمذی. (ص۲۷۶)
وفیه: عن أبی هریرةؓ قال قال رسول الله ﷺ ملعونٌ من أتی إمرأته فی دبرها لا ینظر الله الیه. (ص۲۷۶)
وفی الدر: (و) لا یجد (بوطوء أجنبیة زفت الیه) إلی ان قال (أو) بوطوء (دبر)(ج۴، ص۲۶)
وفی الهندیة: وكذا الو وطئ فی دبرها لا تثبت به الحرمة .... وعلیه الفتوٰی. (ج۷، ص۲۰۵)
وفی البحر: لیفیدانه لا بد أن یكون فی القبل لأنه لو وطی المرأة فی الدُّبر فانه لا یثبت حرمة المصاهرة وهو الاصح لانه لیس بمحل الحرث فلا یفتی إلی الولد(ج۳، ص۹۸)
وفی الدُّر: (اما غیرها) یعنی المیتة ومغیرة لم تشته (فلا) تثبت الحرمة بها أصلًا كوطوء دبر مطلقًا.
وفی الردّ: وفی الولواجیة اتٰی رجلٌ رجلًا له أن یتزوج أبنته لان هذا الفعل لو كان فی الأناث لا یوجب حرمة المصاهره ففی الذكر أولٰی. (ج۳، ص۳۴)