السلام علیکم!
ہم نے ایک جگہ سناتھا کہ اگرکسی خاتون کو شہوت سے چھو لیا جائے تو وہ خاتون، اسکی بہنیں اور اسکی والدہ حرام ہوجاتی ہیں یعنی ان سے نکاح نہیں ہو سکتا کیا یہ بات درست ہے؟ اگر بچپن میں کسی خاتون / لڑکی کو شہوت سے چھو لیا تو کیا اس سے یا اس کی بہن سے بھی نکاح نہیں ہو سکتا؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص کسی بالغہ عورت یا قریب البلوغ مشتہاۃ لڑکی کو بلا حائل شہوت کیساتھ چھولے تو اس پر اس عورت کے اصول ( والدہ، دادی، نانی وغیرہ) اور فروع (بیٹی، پوتی، نواسی وغیرہ) حرام ہو جائیں گے، لہذا اس شخص کا نکاح اس عورت کے اصول و فروع سے نہیں ہو سکتا، البتہ وہ عورت یا اس کی بہنیں اس پر حرام نہیں ہوں گی، لہذا اس کا نکاح مذکور عورت اور اس کی بہنوں سے شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا}۔الآية [النساء: 23]
وفی الدر المختار: (و) حرم بالمصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة و الربيب. وفي الكشاف واللمس ونحوه كالدخول عند أبي حنيفة وأقره المصنف (وزوجة أصله وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا. وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال۔اھ (3/30)
وفيه ايضاً: (وبنت) سنها (دون تسع ليست بمشتهاة) به يفتي۔اھ (3/37)