السلام علیکم ! امید ہے آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے مفتی صاحب آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا تھا میرے سے کچھ غلط حرکت ہو گئی ہے میں ابھی اس وقت عمان مسقط میں رہتا ہوں تقریبا مجھے یہاں ایک سال سے اوپر ہو گیا تو میں جب سے آیا ہوں مجھے اس مسئلے کے بارے میں بس یوٹیوب پر ویڈیو ملی تو اس دن سے میں بہت پریشان ہوں بہت سے علماء کرام مفتیان سے رابطہ کیا کوئی بولتا ہے کہ آپ کا نکاح ہو سکتا ہے کوئی بولتا ہے نہیں ہو سکتا، تو میں آپ سے مخاطب ہوں مجھ سے اپنی ساس کے ساتھ کچھ غلط حرکت ہو گئی ہے زنا نہیں ہوا ،جی بالکل یہ میں قسم کھاتا ہوں صرف بوس و کنار وغیرہ ہوا ہے مطلب زنا کے علاوہ سب کچھ، تو ابھی میں کیا کروں؟ مطلب منگنی ہوئی ہے میری اپنے خاندان میں، اب سب خاندان والوں کو بھی معلوم ہے کہ اس کی منگنی ہو گئی ہے اور ہمارا بہت بڑا خاندان ہے تو ابھی بہت زیادہ پریشان ہوں تقریبا ایک سال سے زیادہ ہو گیا آپ پلیز تھوڑی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ حرمت مصاہرت جس طرح زنا سے ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح کچھ شرائط کے ساتھ کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے بھی ثابت ہوجاتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت کے ساتھ کسی حائل کے بغیر چھولے تو حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی جس کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا ۔
شہوت سے مراد وہ شہوت ہے جس کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اس کی شرائط درج ذیل ہیں:
(1)چھونا بغیر کسی حائل کے ہو، یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو یا درمیان میں حائل کپڑا اس قدر باریک ہو کہ اس سے جسم کی حرارت پہنچتی ہو۔
(2)چھوتے وقت دونوں میں یا کسی ایک میں شہوت پیدا ہو، مرد کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کےآلہ تناسل میں انتشار پیدا ہوجائے اور اگر آلہ تناسل پہلے سے منتشر ہو تو اس کے تناؤ میں اضافہ ہوجائے۔
(3)شہوت چھونے کے ساتھ ملی ہو،اگرچھوتے وقت شہوت پیدا نہ ہو،پھر بعد میں شہوت پیدا ہو تو اس کا اعتبار نہیں۔
(4)شہوت ختم ہونے سے پہلے انزال نہ ہو گیا ہو، اگر انزال ہوگیا تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
(5)عورت کم از کم نو سال اور مرد کی عمر کم از کم بارہ سال ہو۔
لہذا صورت مسؤلہ میں اگر سائل کی اپنی منگیتر کی والدہ کو چھوتے یا بوس وکنار کرتے وقت مذکورہ شرائط موجود تھیں تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوچکی ہے، اب اس عورت (منگیتر کی والدہ) کے اصول و فروع سائل پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئے ہیں ،چنانچہ اب اس کی بیٹی سے نکاح نہیں ہوسکتا، لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ حکمت و بصیرت کے ساتھ دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس رشتہ کو ختم کرنے کا اعلان کردے تاکہ ابتلائے حرام سےمحفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ خاندان میں بھی ناراضگی اور لڑائی جھگڑے کی نوبت پیش نہ آئے۔
کما فی الدرالمختار:(أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة(وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره(فصل فی المحرمات،ج3،ص36،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: فإن نظرت المرأة إلى ذكر الرجل أو لمسته بشهوة أو قبلته بشهوة تعلقت به حرمت المصاهرة، كذا في الجوهرة النيرة (الی قولہ)إذا قبل الرجل المرأة وبينهما ثوب فإن كان يجد برد الثنايا أو برد الشفة فهو تقبيل ولمس، كذا في المحيط. والدوام على المس ليس بشرط لثبوت الحرمة حتى قيل إذا مد يده إلى امرأة بشهوة فوقعت على أنف ابنتها فازدادت شهوته حرمت عليه امرأته وإن نزع يده من ساعته، كذا في الذخيرة. ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة (الی قولہ) فلو جامع صغيرة لا تشتهى لا تثبت الحرمة، كذا في البحر الرائق. ولو كبرت المرأة حتى خرجت عن حد المشتهاة يوجب الحرمة (الی قولہ)وحد الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. وبه يفتى، كذا في الخلاصة(الی قولہ) وحد الشهوة في النساء والمجبوب هو الاشتهاء بالقلب والتلذذ به إن لم يكن وإن كان فازدياده، كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم. ووجود الشهوة من أحدهما يكفي وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في التبيين (القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج1،ص275،ط:ماجدیہ)۔