السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مفتی صاحب! ایک شخص نے اپنی سوتیلی بیٹی کو گال پر بلا حائل چھوا بغیر شہوت کے اور چھوتے وقت عضو تناسل میں برائے نام، حرکت کا احساس ہوا ،لیکن چھوتے وقت عضو تناسل میں انتشار کا پیدا ہونا یاد نہیں، چھونے کی حالت میں عضو تناسل میں انتشار کے آثار معدوم تھے اور اس کو ذہن سے ذہول ہے ، ہاتھ جدا کرنے کے بعد کچھ مضمحل سی صورت انتشار کی ذہن میں ہے ، لیکن چھوتے وقت عضو تناسل میں انتشار کا پیدا ہونا بالکل یاد نہیں ، غالب گمان بھی نہیں کہ انتشاری کیفیت پیش آئی ہو، اب یہ شخص شک میں مبتلا ہے، کیا اس کا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟ برائے مہربانی لازمی طور پر رہنمائی فرمائیں تاکہ اس پریشانی کا حل نکلے ، صورت مذکورہ بالا کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ، دل بہت پریشان ہے اور اس کی لڑکی کی عمر نو سال سے زائد ہے ، رہنمائی ضرور فرمائیں۔
سائل کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کو اپنی سوتیلی بیٹی کے گال پر اسے چھوتے وقت شہوت یا عضو مخصوص میں انتشار کی کیفیت کا پایا جانا یقینی طور پر معلوم نہ ہو بلکہ محض قلبی ہیجان کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس عمل کی وجہ سے اگرچہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہو کر اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوئی، تاہم آئندہ کے لئے سائل کو اپنی بیٹی سے دور رہنے کا اہتمام کرنا چاہیئے ،تاکہ آئندہ کے لئے اس طرح کے غیر شرعی امور سے حفاظت ہو سکے۔
کما فی الدر المختار: (و) أصل (ممسوسۃ بشھوۃ) ولو لشعر علی الرأس بحائل لا یمنع الحرارۃ (و أصل ماستہ وناظرہ إلی ذکرۃ والمنظور إلی فرجھا) المدور (الداخل) ولو نظرہ من زجاج أو ماء ھی فیہ (وفروعھن) مطلقا والعبرۃ للشھوۃ عند المس و النظر لا بعدھما وحدھا فیھما تحرک آلتہ أو زیادتہ بہ یفتی الخ (کتاب النکاح فصل فی المحرمات ج3 صـ 33-32 ط: سعید)
وفی رد المحتار: (قوله والعبرة إلخ) قال في الفتح: وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه. اهـ.(32/3)