کیا زانی اور اُس کے متعلقین سے بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے؟
زانی اگر اپنے فعل پر نادم ہو کر توبہ نہ کرتا ہو اور سمجھانے سے بھی باز نہ آتا ہو اور اس کی وجہ سے معاشرے میں مزید برائی پھیلنے کا اندیشہ ہو تو ایسے شخص سے قطع تعلق کیا جا سکتا ہے، اور ایسے شخص کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے۔
ففي فتح الباري لابن حجر: فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها (إلى قوله) قال المهلب غرض البخاري في هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأنه يتنوع بقدر الجرم فمن كان من أهل العصيان يستحق الهجران بترك المكالمة اھ (10/ 497) والله تعالى أعلم