السلام علیکم! جناب میرا رشتہ میرے گھر والوں کی پسند سے ہوا ہے اور ہم بھی ایک دوسرے کو پسند ہیں، پر تھوڑی پریشانی اس بات کی ہے کہ ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا ہے،کیا ہم دونوں بات کر سکتے ہیں؟ شریعت کے اعتبار سے ہماری رہنمائی کریں، کیونکہ ہم اب ایک دوسرے سے بات کے بغیر نہیں رہ سکتے، میں نے اپنے سسرال والوں سے کہا بھی کہ میرا نکاح کر دیں ،تو اُنہوں نےکہاکہ جب شادی کریں گے ،تو اس وقت کر دیں گے، کیا چھ مہینے پہلے نکاح کرنے میں کوئی مذاق ہے؟ مہربانی کرکے اس بارے میں میری رہنمائی کریں، منگیتر مجھ سے کہتی ہے کے پتا نہیں ہم صحیح کر رہے ہے یا غلط، اور ہمارےگھر والوں کی پسند سے یہ سارےمعاملات طے پائے ہیں، وہ بھی راضی ہے کہ میں اسے پسند ہوں اور وہ بھی مجھے پسند ہے، بس صرف فاصلہ نکاح کا ہے۔
بات پکی ہونا یا منگنی ہو جانا نکاح کا وعدہ ہے، اس کے باوجود بھی منگیتر ایک دوسرے کے حق میں غیر محرم ہوتے ہیں، اس لئے باقاعدہ عقد نکاح سے قبل باہم بے تکلفی اختیار کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما في الدر المختار: هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد اھ (3/ 12)
وفيه أيضاً: وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست۔اھ (6/ 369)