پچھلے ہفتے میری بیوی حاملہ ہوگئی، سوال پوچھنے سے پہلے میں آپ کو اپنی خاندانی زندگی کی اصل حالت بتاتا ہوں میں شادی شدہ ہوں اور میاں والی میں سرکاری نوکری کرتا ہوں ،جبکہ میری بیوی چار سو کلومیٹر دور ایبٹ آباد میں رہتی ہے، حالت یہ ہے کہ ہمارے تین بچے ہیں ایک بیٹی جس کی عمر ساڑے چار سال ہے اور دو بیٹے جن کی عمر سواتین اور ایک سال ہے ،میری بیوی بھی ایک سرکاری نوکری کر رہی ہے، اور صرف وہی تین بچوں کی دیکھ بال کرتی ہے وہ اپنے بچوں کو روزانہ گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر لاتی ہے، ہمیں اس صورت حال کو کنٹرول کرنے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں ہم مزید بچے چاہتے، لیکن ہم کچھ وقت چاہتے ہیں جس میں ہمارا سب سے چھوٹا بچہ بڑا ہو جائے یہاں میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ شریعت کی روشنی میں اسقاط حمل کر دیں۔
صورت مسئولہ میں سائل ابتدائی چار ماہ سے قبل حمل کو ساقط کروا سکتا ہے ،تاہم چارماہ کے بعد اسقاط حمل کروانا قتل نفس کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہوگا۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط اھ (3/ 176)
وفيه ايضا: تحت (قوله ولا يستبين خلقه إلخ) (إلی قوله) قالوا: يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وإنما أباحوا ذلك؛ لأنه ليس بآدمي. اهـ كذا في النهر. (1/ 302) واللہ اعلم بالصواب