ہمارے ہاں مارکیٹ میں رواج ہے جس سے مثلاً مونجی یا گندم خریدنی ہو تو وہ پچاس کلو کے پیچھے ادھا یا کم وبیش زیادہ دیتے ہیں. اور یہ مارکیٹ کی عام رواج کی وجہ سے ہوتا ہے صلب میں یہ طے نہیں ہوتا کیا یہ جائز ہے اور مشتری کیلئے اسکا لینا جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر صلب عقد میں اس زیادتی کی شرط نہ لگائی جاتی ہو، بلکہ پچاس کلو خریدنے پہ بائع اپنی طرف سے خوشی سے کچھ اضافہ کر دیتا ہو تو شرعاً مشتری کے لیے یہ اضافہ وصول کرنا بلاشبہ جائزہے۔
کما فی بدائع الصنائع قال أصحابنا الثلاثۃ: الزیادۃ فی المبیع والثمن جائزۃ مبیعا وثمنا کأن العقد ورد علی المزید علیہ والزیادۃ جمیعا من الابتداء. دار الکتب العلمیۃ (۵/ ۲۵۸)
وفی البحر الرائق: قولہ (والزیادۃ فی المبیع) أی وصحت، ولزم البائع دفعہا بشرط قبول المشتری، وتلتحق أیضا بالعقد فیصیر لہا حصۃ من الثمن حتی لو ھلکت الزیادۃ قبل القبض تسقط حصتھا من الثمن بخلاف الزیادۃ المتولدۃ من المبیع حیث لا یسقط شیء بہلاکہا قبل القبض. دار الکتاب الاسلامی (۶/ ۱۳۱) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1