پولیس نے کسی کا مال پکڑ کر تھانہ میں رکھ لیا اتنے میں تیسرے ایک آدمی نے پولیس سے سمجھوتہ اور خاطر داری کرکے وہ مال خود کے ذمہ لے لیا پھر کسی اور کے پاس بہت ہی کم قیمت میں فروخت کردیا تو سوال یہ ہے کہ خریدا ہوا مال حلال ہے؟
ایسی اشیاء کی خرید وفروخت شرعاً ناجائز ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
فی الھدایۃ: وإذا کان أحد العوضین أوکلاھما محرّما فالبیع فاسد (إلٰی قولہ) وکذا إذا کان غیر مملوکٍ۔ الخ (ج٥، ص٨٩)
فی الدر المختار: (وقف بیع مال الغیر) (إلٰی قولہ) (لمالکہ) أمالو باعہ علٰی أنہ لنفسہ، أو باعہ من نفسہ (إلی قولہ) فالبیع باطل۔ اھـ (ج٥، ص١٠٩)
وفی فقہ البیوع: ویشترط لانعقاد البیع أن یکون المبیع مملوکًا للبائع، فبیع مالا یملکہ البائع باطل، والأصل فی ذالک (إلی قولہ) لا تبع ما لیس عندک۔ اھـ (ج١، ص٣٣٤)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: وأما الملکیۃ غیر المشروعۃ فیجوز للدولۃ التدخل فیھا لرد الأموال إلٰی صاحبھا بل إن لھا الحق فی مصادرتھا (إلٰی قولہ) وکذلک یحق للدولۃ التدخل فی الملکیات الخاصۃ المشروعۃ لتحقیق العدل والمصلحۃ العامۃ۔ اھـ (ج٥، ص٥١٨)
وفی الدر المختار: [فائدۃ] ذکر الطرطوسی فی مؤلف لہٗ أن مصادرۃ السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بیت المال. اھـ (ج٥، ص٣٣٤)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: وأما شرط النفاذ: فھی إثنان: ۱- أن یکون المبیع مملوکًا للبائع. أولہ علیہ ولایۃ، فلا ینفذ بیع غیر المملوک للبائع وھو بیع ملک الغیر۔ الخ (ج٤، ص٣٨٧)
وفی الفقہ الحنفی وأدلتہ: البیوع المنھی عنھا (إلٰی قولہ): بیع المصادر: إذا علم بہ المشتری؛ لأن لہ مالکًا وھو غیر راض ببیعہ۔ اھـ (ج٢، ص٤٨)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1