محترم و مکرم مفتی صاحب السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ شہر چکمگلور کی ایک قدیم مسجد ہے جس میں وہاں کی کمیٹی کے اقرار کرنے کے مطابق موئے مبارک حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اکہتر (71) سالوں سے موجود ہے، ہر سال عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر باضابطہ زیارت کروائی جاتی تھی، لیکن 2015 میں عید میلادالنبی کے موقع پر کمیٹی والوں نے زیارت نہیں کروائی اور لوگوں میں یہ کہا کہ اس کی کوئی سند اور ثبوت نہیں ہے ؟ عرض یہ ہے کہ کیا اکہتر سالوں سے جس موئے مبارک کی عام زیارت کروائی جاتی تھی عوام و خواص بھی زیارت کرتے اور مانتے تھے ؟ اب سند نہ ہونا کہہ کر یکسر موئے مبارک کو مشکوک سمجھنا، سند تلاش کرنا اور زیارت سے روک دینا شرعاً درست ہے؟ کیا آثارِ مبارکہ کو ثابت کرنے کے لئے سند اور ثبوت کی ضرورت ہے ؟ شریعت کی روشنی میں مدلَّل ومفصَّل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ موئے مبارک کی اگر واقعۃً کوئی صحیح اور قابل اعتماد سند نہ ہو تو اس بارے میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے، چنانچہ مذکور موئے مبارک کی نہ تصدیق و تعظیم کی جائے، اور نہ ہی اہانت و تکذیب کی جائے۔