جناب محترم مفتی صاحب فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے ہم لوگ کراچی کے مضافات کی ایک یونیورسٹی کے ملازم ہیں۔ یونیورسٹی سے سارے پوائنٹس تقریباً چار اور سوا چار کے درمیان واپسی کے لیے روانہ ہوتے ہیں، شہر اور گھر واپسی، آج کل پانچ اور ساڑھے پانچ کے درمیان ہوتی ہے اس وجہ سے عصر کی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتے، عصر کی جماعت کے لیے پوائنٹ سے اُتر کر راستے میں کسی مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کی صورت میں واپسی بہت مشکل ہوجاتی ہے، جب ہم گھر واپس پہنچتے ہیں تو اُس وقت عصر کا وقت باقی ہوتاہے لیکن جماعت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہم میں سے کچھ حضرات آج کل یونیورسٹی میں ہی تین بج کر پچپن منٹ پے باقاعدہ باجماعت کا اہتمام کرکے نماز ادا کرلیتے ہیں، امامت کروانے والا بھی حنفی مسلک کا ہی ہوتاہے۔ مندرجہ بالا مسئلہ کو دیکھتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
کیا اس طرح (تین بچ کے پچپن منٹ پے) جماعت ادا کرسکتے ہیں؟
اگر جماعت ادا ہوجاتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر جماعت ادا نہیں ہوسکتی تو جو نمازیں ادا کرلیں کیا اُن کو دوبارہ دہرانا ہوگا؟
کیافقہ شافعی یا حنبلی مسلک والا شخص امامت کروائے تو اُس کی امامت میں نماز ادا کرسکتے ہیں؟ (تین بچ کے پچپن منٹ پے)؟
عصر کا وقت آج کل چار بج کر بائیس منٹ پر داخل ہوتاہے اس سے قبل نماز عصر پڑھنے سے عند الاحناف نماز ادا نہ ہوگی اس لئے جو لوگ کمپنی میں نماز پڑھ کر گھر روانہ ہوتے ہیں وہ جماعت بچانے کیلئے نماز کو ہی قضاء کر رہے ہیں اس لئے ان حضرات پر لازم ہے کہ وقت داخل ہونے کے بعد نماز پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنی فوت شدہ نمازوں کی قضاء بھی کریں، تاہم جماعت سے نماز پڑھنے کیلئے یا تو راستے میں گاڑی روک کر جماعت سے نماز پڑھ لیا کریں یا پھر گھر پہنچ کر دو تین افراد مل کر جماعت کرالیا کریں۔
کما فی الدر: (ووقت الظہر من زوالہ) أی میل ذکاء عن کبد السماء (الی بلوغ الظل مثلیہ (إلی قولہ) ووقت العصر منہ إلی) قبیل (الغروب)
وفی الشامیۃ: (قولہ منہ) أی من بلوغ الظل مثلیہ علی روایۃ المتن إلخ (ج:۱ ص: ۳۵۹، ۳۶۰)
وفی البحر الرائق: (قولہ والعصر منہ إلی الغروب) أی وقت العصر من بلوغ الظل مثلیہ سوی الفئی إلی غروب الشمس إلخ (ج:۱ ص: ۲۴۵) واللہ اعلم بالصواب