السلام علیکم! مجھے آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا اکیلے ایک طرف کھڑے ہو کر جماعت سے نماز پڑھ سکتے ہیں اور یہ بتائیں کہ خانہ کعبہ میں جب نماز ہوتی ہے تو پولیس والے چاروں طرف کھڑے ہو جاتے ہیں، امام کے بھی اور نمازیوں کے بھی ، اس طرح سے نماز صحیح ہو جاتی ہے ؟ براہِ مہربانی جواب دیں۔
جوابِ نتقیح : آپ کے جواب کا شکریہ !میں شاید آپ کوصحیح سمجھا نہ سکا ، پہلےسوال سے میرا مطلب یہ ہے کہ اگر مسجد میں نماز باجماعت ہو رہی ہو اور میں آکر کسی وجہ سے الگ کھڑے ہو جاؤں ، اور نماز میں شامل ہو جاؤں ، تو کیا نماز ہو جاۓ گی؟
دوسرا یہ تھا کہ دورانِ نماز پولیس والے بالکل نمازیوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور نمازی بالکل اُن کے پاؤں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ، تو کیا نماز ہوجائےگی؟ مجھے اُمید ہے کہ اب آپ سمجھ گئے ہونگے؟
۱۔بغیر معقول عذر کے صفوف سے دور تنہا کھڑے ہو کر جماعت سے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، اس لۓ اس طرح اگرچہ فرض نماز ادا ہو کر ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے، مگر یہ طرزِ عمل مناسب نہیں ، اس لۓ اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ جبکہ دوسری صورت میں نماز ادا ہو جائےگی، البتہ سیکورٹی اہلکاروں پر لازم ہے کہ درمیان میں سترہ کھڑا کرنے کا اہتمام کریں۔
فی الدر المختار : و لو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامہ في صف خلف صف فيه فرجة . قلت : و بالكراهة أيضا صرح الشافعية . اھ (1/ 570)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يكره للمنفرد أن يقوم في خلال صفوف الجماعة فيخالفهم في القيام و القعود و كذا للمقتدي أن يقوم خلف الصفوف وحده إذا وجد فرجة في الصفوف اھ (1/ 107)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته : قال الحنفية : يكره تحريماً المرور بين يدي المصلي ، و يأثم المار في موضع سجود المصلي ، إذا اتخذ سترة ، دون أن يكون بينهما حائل كعمود أو جدار اھ (2/ 946)۔
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0