زوال کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟ اور کب ختم ہوتا ہے؟
جب عین دو پہر کے وقت سورج بالکل سر پر آجائے، اور شام کی طرف ڈھلنےلگے تو یہ زوال کا وقت کہلاتا ہے، اس وقت نماز پڑھنا اور سجدہ و غیرہ کرنا مکروہ ہے، مگر یہ وقت چونکہ موسموں اور علاقہ کے اختلاف سے بدلتا رہتا ہے، اس لیے معتمد ادارے بنے ہوئے دائمی نقشہ اوقات نماز میں دیکھ لیا جائے، اور اس میں دیئے ہوئے وقت سے احتیاطاً پانچ (۵) منٹ پہلے، اور پانچ (۵) منٹ بعد نماز پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔
ففي الدر المختار: (وكره) تحريما، وكل ما لا يجوز مكروه (صلاة) مطلقا (ولو) قضاء أو واجبة أو نفلا أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو) (الى قوله) (قوله واستواء) اھ (1/ 370)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال (إلی قوله) وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل اھ (1/ 371)
فجر اور اشراق کا وقت جرمنی کے فجر و اشراق کا وقت- العصر گھڑی کے اوقات نماز کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ اوقات نماز 0اگر عصر کی نماز کے دوران مغرب کی اذان شروع ہوگئی، تو اُسے نماز توڑنا چاہیے یا نہیں؟
یونیکوڈ اوقات نماز 0حنفی شخص کے لئے شافعی المسلک امام کی اقتداء میں وقت داخل ہونے سے پہلے نماز پرھنے کا حکم
یونیکوڈ اوقات نماز 0