کیا گھر کے لئے قرضہ ،گاڑی کے لئے قرضہ اور دیگر قرضے شریعت کی رو سے جائز ہے؟
گھر اور گاڑی وغیرہ کسی بھی ضرورت کے لیے کسی ادارے یاکسی فرد سے غیر سودی قرضہ حاصل کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا، فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ، وَقَالَ: «خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً»(3/1225/رقم الحدیث 1601)۔
و فی سنن ابن ماجہ: نْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا وَقَالَ: "إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ" فَلَمَّا قَدِمَتْ، قَالَ: "يَا أَبَا رَافِعٍ، اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ"(3/387 رقم الحدیث 2285)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0