السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت میرا یہ مسئلہ ہے کے ایک گداگر میرے پاس پیسے اکٹھے کیا کرتا تھا؟ پھر جب وہ اپنے گھر جاتا تو وہ اکٹھی کی گئی رقم مجھ سے لے جاتا؟ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کی کچھ رقم میرے پاس پڑی ہے ؟ اور وہ آدمی تقریباً 8 مہینے سے نہیں آ رہا، مجھے یہ بھی تصدیق نہیں ہو رہی کہ وہ حیات بھی ہے یا نہیں ؟ تو اب اس کی وہ رقم کا کیا کرو میں ؟ اس کی رقم مسجد کی تعمیر میں دے سکتا ہوں کیا میں اس نیت سے کہ اسے صدقہ جاریہ ملتا رہے؟میری راہ نمائی فرمائیں۔
سائل کو جب تک مذکور گداگر کی وفات کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تب تک بطور امانت رکھی ہوئی مذکور رقم کو صدقہ کرنا درست نہیں ، البتہ اگر مذکور گداگر کی وفات کا یقین یا غالب گمان ہو جائے تو اس صورت میں اگر اس کے ورثاء کا علم ہو تو سائل کے لئے مذکور رقم انہیں واپس کرنا لازم ہوگا اور اگر ان کا علم نہ ہو تو مذکور رقم انہی کے طرف سےمسجد کی تعمیر یا کسی اور مصرف میں خرچ کرنا بھی جائز ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه كذا في الشمني اھ (4/ 338)
و فيه ايضا : غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته كذا في الوجيز للكردري ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة كذا في الفتاوى العتابية وإذا مات رب الوديعة فالوارث خصم في طلب الوديعة كذا في المبسوط فإن مات ولم يكن عليه دين مستغرق يرد على الورثة وإن كان يدفع إلى وصيه كذا في الوجيز للكردري المودع إذا دفع الوديعة إلى وارث المودع و في التركة دين يضمن للغرماء ولا يبرأ بالرد على الوارث كذا في خزانة المفتين والله أعلم اھ (4/ 354)
و في الدر المختار: وللمودع صرف وديعة مات ربها ولا وارث لنفسه أو غيره من المصارف اھ (2/ 336)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وللمودع إلخ) قال في شرح الوهبانية و في البزازية قال الإمام الحلواني إذا كان عنده وديعة فمات المودع بلا وارث له أن يصرف الوديعة إلى نفسه في زماننا هذا؛ لأنه لو أعطاها لبيت المال لضاع؛ لأنهم لا يصرفون مصارفه فإذا كان من أهله صرفه إلى نفسه وإن لم يكن من المصارف صرفه إلى المصرف اهـ (2/ 336) والله تعالى اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0