کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ صحیح مسلم میں آتا ہے نبی ﷺ نے بغیر کسی وجہ کے بھی نمازوں کو ملایا، تو کیا انھوں نے کسی نماز کو اس کے وقت سے پہلے یا وقت ختم ہونے کے بعد پڑھایا ، پھر انہوں نے نماز کے آخری حصہ میں ایک نماز پڑھی اور ساتھ ہی اگلی نماز کا وقت شروع ہوا اور وہ بھی ادا کر ڈالی اور کیا ہم اس عمل کو اپنا سکتے ہیں ؟
احادیثِ مبارکہ میں جہاں دو فرض نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا ذکر ہے، علماءِ احناف کے ہاں اس کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع نہیں کیا (کیونکہ ایسا کرنے پر خود حضور اکرم ﷺ نے وعیدیں بیان فرمائی ہیں) بلکہ آپﷺ نے ایک نماز کو اس کے اخیر وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا فرمایا، جس سے بظاہر دو نمازوں کو جمع کرنے کی ایک صورت پیدا ہوگئی، اور روایت کرنے والے نے اس کو اس طرح روایت کیا کہ حضور اکرم ﷺنے دو نمازوں کو جمع کیا ، لہذا احناف کے ہاں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں البتہ سفر وغیرہ عذر کی وجہ سےمذکور بالا ( جمع صوری) کے طریقہ پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
كما في الدر: ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا فإن جمع فسد لو قدم الفرض على وقته اهـ (382/1)
و في الشامية: تحت (قوله : محمول إلخ) أي ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها اھ (382/1)
و في الهندية: و لا يجمع بين الصلاتين فى وقت واحد فى السفر ولا في الحضربعذرما ما عدا عرفة و المزدلفة اھ (52/1)