السلام علیکم! مفتی صاحب! میرا ایک دوست ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس والے مسجد میں ہم کو باجماعت نما زپڑھنے سے مولوی صاحب روکتا ہے، کیونکہ کہ وہاں کچھ لوگوں نے مسجد کا کارپٹ خراب کیا تھا، اس لیے منع کرتے ہے اور لوگ جماعت ہو کر بھی نماز اکیلے پڑھتے ہیں تو اس کے بارے میں آپ ہمیں آگاہ کیجیے کے ان لوگوں کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
۲۔ اور دبئی میں لوگ دو یا تین جماعت ایک جگہ پڑھاتے ہیں تو ہمارے دیوبند کے علماء کرام حضرات اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ براہِ کرم دین کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔
جس مسجد کا امام ومؤذن اور لوگ متعین ہوں اور جماعت کے اوقات بھی مقرر ہو تو احناف کے نزدیک ایسی مساجد میں جماعت ثانیہ قائم کرنا مکروہ ہے، نیز مسجدوں میں بلاعذر جماعت ثانیہ کی عادت بنا لینا مقاصد جماعت کے خلاف ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی شخص مسجد میں جا کر دیکھے کہ جماعت ہو رہی ہے تو ایسے شخص کے لیے جماعت ثانیہ میں شریک ہونے کی گنجائش ہے، جبکہ ایسی مساجد جس کا امام ومؤذن مقرر نہ ہو تو ایسی مساجد میں جماعت ثانیہ کی گنجائش ہے، جبکہ سائل کا پہلا سوال واضح نہیں، اس کی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کردے تو ان شاء اللہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائےگا۔
ففی الدر المختار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن اھ (1/ 552) واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0